آئی سی سی کی پالیسی میں تسلسل نہیں؛ بنگلہ دیش کا مؤقف تسلیم نہ کرنے پر شاہد آفریدی کی سخت تنقید



 (24نیوز) انٹرنیشنل کرکٹر شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ حیثیت سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل آئی سی سی کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کہ وجہ سے انہیں مایوسی ہوئی۔

 شاہد آفریدی نے  آئی سی سی کے دُہرے معیاروں کی نشان دہی کی اور کرکٹ کے بین الاقوامی ادارہ کے اس جانبدارانہ طرز عمل پر دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا۔

شاہد آفریدی نے  سوشل پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سابق انٹرنیشنل کرکٹر کی حیثیت سے آئی سی سی کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کہ وجہ سے انہیں مایوسی ہوئی۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ آئی سی سی نے 2025 میں پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے لیے بھارت کے نام نہاد سکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا ، لیکن بنگلہ دیش کے معاملے میں اسی چیز کو سمجھنے پر آمادہ نہیں۔ 

واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں چیمپئینز ٹرافی کے لئے سکیورٹی کے انتظامات  تمام ٹیموں کی توقع سے بڑھ کر تھے۔ پاکستان نے پہلے آئی سی سی کے ایکسپرٹس کو بلوا کر انہین سکیورٹی انتظامات دکھائے، انہوں نے ان انتظامات کو بہترین قرار دیا تھا۔ اس کے بعد اندیا نے اپنی ٹیم لاہور بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور پاکستان کو اس ایونٹ کے سیمی فائنل اور فائنل تک اپنے ملک سے باہر کروانا پڑے تھے۔

 گرین شرٹس کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا تسلسل اور برابری عالمی کرکٹ گورننس کی بنیاد ہے ، بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں اور اس  ٹیم کے لاکھوں فینز کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیئے: منیاپولس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امیگریشن ایجنٹوں نے ایک اور امریکی شہری کو قتل کر دیا

گرین شرٹس کے سابق کپتان محمد یوسف نے بھی بنگلہ دیش کے ساتھ آئ یسی سی کی زیادتی پر اپنے ردعمل میں کہا آئی سی سی کو کسی ایک ملک کے بورڈ کو سپورٹ کرنے کے بجائےانٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل کی طرح کام کرنا چاہیے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کرلیا ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنے ھکلاڑیوں کی سکیورٹی کو درپیش حقیقی مسائل کی وجہ سے بھارت کی بجائے کسی غیر جانبدار وینیو پر اپنے ورلڈ کپ میچ رکھے جانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے ہی نکال دیا۔

ی ہبھی پڑھیئے: امیگرنٹس پر کریک ڈاؤن کیخلاف منفی29ڈگری سینٹی گریڈ  موسم میں پچاس ہزار شہریوں  کا احتجاج، درجنوں  گرفتاریاں 





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *