
(24نیوز)ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں انہونی ہوئی کہ آسٹریلیا گروپ سٹیج میں ہی فارغ ہو گیا۔اس کے بعد یہ “انہونی” بھی ہو گی کہ گرین شرٹس ٹی ٹوینٹی ٹرافی گھر لے آئیں۔ ایسا اس لئے سوچا جا رہا ہے کہ اس کی ایک خاص تاریخی بنیاد ہے۔
جب 2009 کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا گروپ سٹیج میں ہی فارغ ہو گئی تھی تو اس کے بعد ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ ٹرافی گرین شرٹس جیت لائے تھے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریلیا کی ٹیم پہلے مرحلے میں ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی، اور اب سپر ایٹ میں اسکی جگہ زمبابوے نے کوالیفائی کرلیا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کیلئے نیک شگون ہوسکتا ہے؟
بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جانے والا یہ والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آسٹریلیا کےلیےنائٹ مئیر ثابت ہوا۔ پہلے زمبابوے نے اور پھر سری لنکا نے آسٹریلیا کو گروپ میچوں میں ہرا دیا۔ پوائنٹس ٹیبل پر دونوں ٹیموں سے نیچے آنے کے بعد آسٹریلیا کے سپر ایٹ راؤنڈ میں جانے کا انحصار زمبابوے کی اپنے آخری گروپ میچ مین آئرلینڈ سے ہار پر تھا۔ بارش نے میچ ہی نہیں ہونے دیا اور زمبابوے کی ہار کا سوال ہی باقی نہیں رہا۔ زمبابوے کو ایک پوائنٹ ملا وہ ہی اسے سپر ایٹ راؤنڈ میں لے گیا اور بارش نے آسٹریلیا کو بیٹھے بٹھائے گروپ سٹیج میں ہی فارغ کروا دیا۔
گرین شرٹس فائنل جیت چکے، رسمیں ہونا باقی ہے؛ اس یقین کی بنیاد کیا ہے؟
آسٹریلیا سپیر ایٹ میں نہیں گیا اور پاکستان کو سپر ایٹ میں جانے کے لئے ایک میچ جیتنا یا اس میچ کا ڈرا ہونا لازمی ہے۔ ابھی پاکستان سپر ایت مرحلہ میں پہنچا نہیں اور بعض سیانے یقین سے بتا رہے ہیں کہ فائنل تو بس پاکستان جیت چکا ہے؛ اب صرف سپر ایٹ راؤنڈ کے تین میچ، سیمی فائنل اور فائنل میچ ہونے کی رسمیں ہونا باقی ہے۔
دراصل یہ پہلا موقع نہیں جب آسٹریلوی ٹیم ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے سے باہر ہوئی ہو۔ آسٹریلیا کی ٹیم 2009 میں بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پہلے مرحلے سے باہر ہوگئی تھی۔ جب 2009 میں آسٹریلیا کو گروپ سٹیج میں ہی ٹی توینٹی ورلڈ کپ سے باہر دھکا لگا تھا تب بھی پاکستان نے آگے بڑھ کر فائنل جیت لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: آسٹریلیا ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہوگیا
اب زمبابوے، سری لنکا اور بارش نے آسٹریلیا کو ٹی20 ورلڈکپ سے باہر کردیا ہے تو خوش عقیدہ کرکٹ ایکسپرٹ 2009 کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کی ہسٹری دہوائے جانے کے متعلق پر یقین ہیں۔ تاریخ نے خود ہو دہرایا تو ظاہر ہے کہ پاکستان نہ صرف سپر ایٹ کے میچ جیتے گا بلکہ سیمی فائنل بھی جیتے گا اور فائنل میں مقابل کوئی بھی ہوا، ٹرافی تو گری نشرٹس ہی گھر لائیں گے۔ کیونکہ 2009 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
سری لنکا کا کردار
سنہ 2009 میں نگلینڈ اور ویلز میں کھیلے گئے گروپ میچوں میں آسٹریلیا کو ہرا کر انہونی کروانے والی ٹیموں میں ایک سری لنکا تھی جو ان 2026 کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کی گروپ سٹیج میں بھی آسٹریلیا کو فارغ کرنے میں اہم کردار بنی ہے۔ایونٹ میں آسٹریلیا کی مجرم بنی۔
آسٹریلیا تب اور اب ون ڈےکرکٹ ورلڈ چیمپئین!
آسٹریلیا 2009 میں بھی 50 اوور کے ون ڈے کرکٹ فارمیٹ کا عالمی چیمپئن تھا اور اس وقت بھی آسٹریلیا ون ڈے کرکٹ فارمیٹ میں عالمی چیمپئن ہے۔
گرین شرٹس تب جیتے تھے تو اب کیوں نہیں
2009 اور 2026 کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں مماثلتوں کی فہرست یہیں تمام نہیں ہوئی؛ سب سے خاص یہ کہ 2009 کے ورلڈ کپ میں دفاعی چیمپئن بھارت تھا جو 2026 کے ورلڈ کپ میں بھی دفاعی چیمپئن ہے۔ 2009 میں پاکستان نے بھارت سے ٹرافی چھینی تھی، اب بھی بھارت کے ہاتھوں سے چھن کر ٹرافی پاکستان ہی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: کولمبو میں کل بارش بارانِ رحمت ہو گی، پاکستان کھیلنے کی زحمت کئے بغیر سپر ایٹ راؤنڈ میں چلاجائےگا
کیونکہ 2009 میں آسٹریلیا کے باہر بیٹھ جانے کے بعد 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پاکستان نے جیتا تھا۔ا س لئے اب بھی لازم ہے کہ آسٹریلیا کے فارغ ہو جانے کے بعد 2009 والی کہانی آگے بڑھے اور پاکستان سپر ایٹ کے میچ، اس کے بعد سیمی فائنل اور پھر فائنل بھی جیت جائے۔ یہ ہو جانا اس لئے عین یقینی ہے کہ بھارت کے ساتھ میچ میں پاکستانی باؤلرز دکھا چکے ہیں کہ وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں اور بیٹرز نے جو غلطیاں بھارت کے ساتھ میچ میں کین وہ واقعتاً اتفاقیہ اور اضافی دباؤ کا شاخسانہ تھیں۔ اس کا ثبوت گرین شرٹس کل بدھ کے روز کولمبو کے سنہالے سپورٹس کلب کے آخری گروپ میچ میں دے ہی دیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: ن لیگ کیساتھ چلنے کا ارادہ ہے، عمران خان کے دور میں حکومت فیض حمید نے کی:صدر زرداری
تاریخ 2009 والی پگڈنڈیوں پر ہی چل رہی ہے
گرین شرٹس کے کرکٹ ہسٹری میں دلچسپی رکھنے والے فینز کو بہرحال پکا یقین ہے کہ کولمبو کے ٹی توینٹی ورلڈ کپ میں تاریخ 2009 والی پگڈنڈیوں پر آگے بڑھتی ہوئی گرین شرٹس کو فائنل تک لے جائے گی اور ٹرافی کو پاکستان لے آنے تک ضرور پہنچائے گی۔ آسٹریلیا کی دلچسپ کہانی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ اس مرتبہ بھی ورلڈ کپ پاکستان کا ہے۔
“ٹھوس معروضی تجزیہ” کرنے کے عادی ذہنوں کے لئے فی الحال اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ پاکستان گزشتہ کچھ مہینوں میں ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں کھیل رہی (ایک کو چھوڑ کر) سب ٹیموں پر نمایاں طور سے بھاری رہا ہے۔ جو ٹیم 15 فروری کو پاکستان کے ساتھ میچ میں بھاری نکلی اس کے صرف ایک کھلاری “ایشان میں شیطان” نہ سمایا ہوتا تو میچ کا نتیجہ بالکل الٹ ہوتا۔
یہ بھی پڑھیئے: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان اور بھارت کا اگلا مقابلہ کب متوقع؟ تاریخ سامنے آگئی












Leave a Reply