
(24 نیوز)بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کا گٹھ جوڑ کر پوری طرح عیاں ہو گیا ہے، بی سی سی آئی کے دبائو میں آ کر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 پر تحفظات کا اظہار کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کو ایونٹ سے باہر کرتے ہوئے ان کی جگہ سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو انٹرنیشنل ایونٹ میں شامل کر لیا ہے۔
آئی سی سی نے ٹیموں کے گروپ میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی سے باہر کر دیا ہے، سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو گروپ سی میں شامل کیا گیا ہے جس میں ان کے ساتھ انگلینڈ، اٹلی ، نیپال اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں شامل ہیں۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم کو انڈیا میں کسی بھی قسم کے سیکورٹی خطرے کی قابل تصدیق ثبوت نہ ملنے کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہیں کر پانے والی ٹیموں میں سکاٹ لینڈ کی رینکنگ سب سے زیادہ ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد بنگلہ دیش کو 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا تاہم ڈیڈ لائن گزرجانے کے باوجود بنگلہ دیش کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
آئی سی سی کے اعلان سے کچھ دیر قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے انڈیا بھیجنے کے متعلق فیصلہ حکومت کرے گی۔
سنیچر کے روز لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان ہمیں جو حکم دے گی ہم وہ کریں گے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس وقت پاکستان میں نہیں ہیں، جب وہ واپس آئیں گے تو اس کے بعد ہم آپ کو اپنے حتمی فیصلے کے متعلق بتا سکیں گے۔
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، میں نے آئی سی سی کی بورڈ کی میٹنگ میں بھی یہی کہا تھا کہ آپ دہرا معیار نہیں اپنا سکتے کہ ایک ملک کے لیے کہیں کہ جب مرضی فیصلہ کر لے اور دوسری ملک کے لیے بالکل الگ فیصلہ کریں، پی سی بی چیئرمین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو ہر صورت ورلڈ کپ میں کھلانا چاہیے، وہ ایک بڑے سٹیک ہولڈر ہیں اور ان کے ساتھ یہ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔
اُن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے کے میچز کے لیے ہائبرڈ نظام اپنایا جا سکتا ہے تو بنگلہ دیش کے لیے کیوں نہیں، ان کا اشارہ گذشتہ برس پاکستان میں منعقد ہونے والے ایشیا کپ کی جانب تھا جب انڈیا کے پاکستان میں میچ کھیلنے کے انکار کے بعد انڈیا کے تمام میچز متحدہ عرب امارات منتقل کر دیے گئے تھے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایک ملک کسی کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ ‘اگر ڈکٹیشن کی کوشش ہو گی تو پھر پاکستان کا اپنا موقف ہے اور وہ اسی پر رہے گا، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر بائیکاٹ کا فیصلہ ہوتا ہے تو ہمارے پاس بہت سارے متبادل منصوبے ہیں، یاد رہے کہ جمعرات کے روز بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنا فیصلہ تبدیل نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
ڈھاکہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے مشیر برائے سپورٹس آصف نذرل سے ملاقات کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
اس سے قبل بدھ کے روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنی بورڈ میٹنگ میں بنگلہ دیش کو انڈیا میں ورلڈ کپ کھیلنے سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنا فیصلہ سنا دیا، آئی سی سی نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے انڈیا میں شیڈول میچز کہیں اور منتقل کرنے سے معذرت کر لی تھی، مشیر برائے سپورٹس آصف نذرل نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کا فیصلہ واضح ہے، بنگلہ دیش کی ٹیم انڈیا میں نہیں کھیلے گی۔
واضح رہے کہ سات فروری 2026 سے شروع ہونے والی ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبائی انڈیا اور سری لنکا کے پاس ہے۔ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان بھی ورلڈ کپ کے اپنے تمام میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا۔
یہ بھی پڑھیں :اسحاق ڈار کی ابوظہبی محکمہ خزانہ کے چیئرمین سے ملاقات












Leave a Reply