بھارتی کرکٹ بورڈ کے سالانہ معاہدے میں کوہلی اور شرما کی تنزلی



(24 نیوز )بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے پیر کے روز 2025-26 سیزن کے لیے ٹیم انڈیا کے سینیئر مرد اور خواتین کھلاڑیوں کے سالانہ معاہدوں کا اعلان کر دیا جس کے تحت سابق کپتان ویرات کوہلی اور روہت شرما کو گروپ بی میں شامل کر دیا گیا ہے۔

مردوں کے شعبے میں 2 فارمیٹس کے کپتان شبمن گل، فاسٹ بولر جسپریت بمراہ اور ٹیسٹ آل راؤنڈر رویندر جدیجا کو گروپ اے میں برقرار رکھا گیا ہے۔

کوہلی اور روہت شرما چونکہ بالترتیب ٹیسٹ اور ٹی 20 کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں اس لیے اب وہ عملاً ایک ہی فارمیٹ کے کھلاڑی رہ گئے ہیں اور یوں اعلیٰ درجے (گروپ اے) کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔

 اگرچہ بی سی سی آئی نے مختلف زمروں کے معاوضے کی رقم ظاہر نہیں کی تاہم گزشتہ سیزنز میں گروپ اے کے کھلاڑیوں کو سالانہ 5 کروڑ روپے، گروپ بی کو 3 کروڑ روپے اور گروپ سی کو ایک کروڑ روپے ادا کیے جاتے رہے ہیں۔

مردوں کے گروپ بی میں شامل دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں واشنگٹن سندر، کے ایل راہول، محمد سراج، ہردک پانڈیا، رشبھ پنت، کلدیپ یادیو، یشسوی جیسوال، سوریہ کمار یادیو اور شریاس ائیر شامل ہیں۔

خواتین کرکٹ میں ہرمن پریت کور، اسمرتی مندھانا اور جمیما روڈریگز کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جبکہ دیپتی شرما گروپ بی میں شامل ہیں ان کے ساتھ رینوکا ٹھاکر، شیفالی ورما، رچا گھوش اور سنیہ رانا بھی اسی زمرے کا حصہ ہیں۔

 بی سی سی آئی نے اس موقع پر واضح کیا کہ اب اے پلس کیٹیگری کو ختم کر دیا گیا ہے, یہ درجہ سابقہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز (سی او اے) نے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کی سفارش پر متعارف کرایا تھا جس کا مقصد تینوں فارمیٹس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو اضافی انعام دینا تھا۔ ماضی میں صرف 4 کھلاڑی کوہلی، روہت، جدیجا اور بمراہ اس معیار پر پورا اترے تھے۔

تاہم ان میں سے 3کھلاڑیوں کے ایک یا زائد فارمیٹس سے ریٹائر ہونے کے بعد بی سی سی آئی نے اس کیٹیگری کو برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا خصوصاً اس لیے بھی کہ سلیکشن کمیٹی کے نزدیک شبمن گل تاحال تینوں فارمیٹس کے مستقل کھلاڑی ثابت نہیں ہو سکے جس کی مثال ٹی 20 ورلڈ کپ اسکواڈ سے ان کی عدم شمولیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *