بھارت سے میچ کا بائیکاٹ:بھاری نقصان ہوگا، بھارت میں کہرام، بائیکاٹ ہماری وجہ سے ہوا، بنگلہ دیش میں خوشی


(24نیوز) پاکستان کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں بھارت کے ساتھ نہ کھیلنے کے دو ٹوک اعلان نے بنگلہ دیشی اور بھارتی میڈیا میں  ہیڈلائنز بنا دیں۔  کئی میڈیا آؤٹ لیٹس نے اس خبر کو دن کی سب سے بڑی خبر کی حیثیت سے شائع کیا۔ بھارت میں اس بات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس بائیکاٹ سے ایونٹ کے آرگنائزرز کا سب سے بڑی آمدنی والا میچ ہاتھ سے نکل گیا اور اب نہ صرف بھاری نقصان ہو گا بلکہ ٹورنامنٹ ہی بے یقینی سے دوچار ہو گیا۔

بنگلہ دیش اور بھارت دونوں ملکوں میں میڈیا آؤٹ لیٹس نے پاکستان کے بھارت کے ساتھ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کا میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کو بنگلہ دیش کے ساتھ بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے رویہ کے ساتھ جوڑا ہے۔

بنگلہ دیش کے میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں پاکستان کے کولمبو میں رکھے گئے بھارت کے ساتھ گروپ میچ کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی حمایت میں کیا گیا اقدام قرار دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے سوشل میڈیا میں اس خبر پر خاص جوش کے ساتھ تبصرے ہو رہے ہیں۔

بھاری مالی نقصان ہونے کا یقین

بھارتی میڈیا میں پاکستان کے اس اعلان پر  مختلف  تبصرے کئے جا رہے ہیں اور اس پہلو کو اہمیت دی جا رہی ہے کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے سے ورلڈ کپ کے منتظمین کو بھاری مالی نقصان ہو گا۔

بھارتی  نیوز آؤٹ لیٹ قومی آواز نے پاکستان کے بائیکاٹ کی خبر کو اتوار کی شام  خبر سامنے آنے کے بعد اپنی لیڈ سٹوری بنایا اور  رپورٹ میں یہ لکھا، ” آئی سی سی کے ضوابط کے تحت اگر کوئی ٹیم شیڈول میچ میں شرکت نہیں کرتی تو مالی جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نئی کٹ کی رونمائی کر دی گئی

 اسی تناظر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آئی سی سی کو اس معاملے میں اختیار حاصل ہے اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف تادیبی کارروائی کر سکتی ہے۔ ٹورنامنٹ منتظمین کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ کو سب سے بڑی کشش اور آمدنی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔”

بنگلہ دیش کا  سنجیدہ میڈیا اور سوشل میڈیا

بنگلہ دیش کے  مین سٹریم میڈیا کی خبروں میں  پیش رفت اور پاکستان کے  سرکاری بیان پر مرکوز حقائق پر مبنی لہجے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ جب کہ بنگلہ دیشی سوشل میڈیا اور تبصرے والے حصے زیادہ پرجوش ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

بہت سے بنگلہ دیشی صارفین اس خیال کی حمایت کر رہے ہیں کہ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر بھارت میں نہ کھیلنا جائز تھا اور آئی سی سی کے سمجھے جانے والے دوہرے معیار کے خلاف پاکستان کا احتجاج بالکل صحیح ہے۔ 

بنگلہ دیش کا  مین سٹریم میڈیا

بنگلہ دیش کا میڈیا پاکستان کے بائیکاٹ کی خبروں کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تنازع کے وسیع بیانیے کے اندر پیش کر رہا ہے۔ آج اتوار کی شب سامنے آنے والی رپورٹس میں اس تنازعہ کی  سیاسی اور حفاظتی جہتیں (صرف کھیل ہی نہیں) بھی پیش کی گئیں۔

بنگلہ دیش کے میڈیا نے قرار دیا کہ پاکستان کے بائیکاٹ کا  فیصلہ اور بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکالے جانے کے  کے فیصلے کا نتیجہ ہے۔  بنگلہ دیش کے میڈیا کی رپورٹس اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ کس طرح مقام کی تبدیلی کے مطالبات اور ICC کی طرف سے غیر منصفانہ سلوک نے پورے خطے میں رد عمل کو شکل دی ہے۔

پاکستان کے موقف کو بنگلہ دیش کو نکالنے سے جوڑنا
بنگلہ دیش میں پاکستان کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد سامنے آنے والے مضامین اور رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کے اعلان کو جزوی طور پر بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک نے احتجاج کیا کہ آئی سی سی نے حفاظتی وجوہات کی بناء پر میچوں کو بھارت سے باہر منتقل کرنے کی ڈھاکہ کی درخواست کو کس طرح  الگ طریقہ سے نبٹایا۔  رپورٹس میں پاکستان کے کرکٹ حکام کے حوالے سے زور دیا گیا ہے کہ  پی سی بی نے  بنگلہ دیش کے ساتھ “غیر منصفانہ سلوک”  پر احتجاج کیا ہے۔

 مسلسل غیر یقینی صورتحال اور سیاسی ڈھانچہ
بنگلہ دیش کا میڈیا اس بات پر روشنی ڈال رہا ہے کہ کس طرح بنگلہ دیش کی اپنی عدم شرکت سے لے کر پاکستان کے بائیکاٹ تک کا پورا واقعہ – خالصتاً کھیل کے بجائے سیاسی اور سفارتی ہو گیا ہے۔یہ رپورٹس ٹورنامنٹ کے فارمیٹ، آئی سی سی کی ساکھ اور خطے میں کرکٹ بورڈز کے درمیان وسیع تر تعلقات کے لیے مضمرات کو واضح کرتی ہیں۔

 بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے ہٹانے کے فیصلے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوا

بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ قومی آواز کی رپورٹ کے مطابق، “آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے ہٹانے کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوا۔ بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اپنے میچز ہندوستان سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم اسے منظور نہیں کیا گیا۔ اسی تناظر میں پاکستان کی حکومت نے اپنے موقف پر نظرثانی کے بعد موجودہ فیصلہ کیا۔”

قومی آواز نے مزید لکھا، “:گزشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد کہا گیا تھا کہ پاکستان کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز میں سامنے آئے گا۔ تاہم حکومت نے طے شدہ تاریخ سے ایک دن قبل ہی اعلان کر کے صورتحال واضح کر دی۔ اسی دوران پاکستانی ٹیم نے ٹی-20 ورلڈ کپ کے لیے اپنی جرسی کی رونمائی بھی مؤخر کر رکھی تھی، جو اب متوقع ہے کہ شرکت کے اعلان کے بعد سامنے آ جائے گی۔”

یہ بھی پڑھیئے: پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا لیکن بھارت کے ساتھ نہیں کھیلے گا، پاکستان کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ این ڈی ٹی وی نے لکھا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ نے پورے ٹورنامنٹ کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

قومی آواز نے لکھا، “پاکستان، جو 2009 کے ٹی-20 ورلڈ کپ کا فاتح رہ چکا ہے، گروپ اے میں شامل ہے جہاں اس کے ساتھ ہندوستان، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کی ٹیمیں موجود ہیں۔ سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستانی ٹیم 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف کولمبو میں اپنی مہم کا آغاز کرے گی، جبکہ ہندوستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ نے پورے ٹورنامنٹ کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  تیسرا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دیکر 7 سال بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سوئپ کرلیا
  

  ٹورنامنٹ منتظمین کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ کو سب سے بڑی کشش اور آمدنی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔”

یہ بھی پڑھیئے: پاکستان کی بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی وجوہات سامنے آ گئیں 





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *