زیرِ استعمال زیورات پر زکوٰۃ کا حکم کیا ہے؟


زیرِ استعمال سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ کا حکم کیا ہے؟ نصاب، قمری سال اور رمضان میں زکوٰۃ ادا کرنے کے اصول آسان الفاظ میں جانیں۔

سوال نمبر 1

ایک عورت کے پاس 10 سے 11 لاکھ روپے مالیت کا سونا اور چاندی موجود ہے جسے وہ سال بھر مختلف مواقع پر باری باری استعمال کرتی ہے۔ کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

اگر زیورات سونے یا چاندی کے ہوں اور ان کی مالیت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو ان پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے، چاہے وہ زیرِ استعمال ہوں یا محفوظ رکھے گئے ہوں۔

لہٰذا جس قمری تاریخ کو عورت ان زیورات کی مالک بنی، اس تاریخ کو یاد رکھے۔ ایک قمری سال مکمل ہونے پر اسی تاریخ کو مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد (2.5٪) بطور زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

سوال نمبر 2

اگر اس نے نیا زیور خریدا اور سال مکمل ہونے سے پہلے 7 ماہ بعد رمضان آ گیا تو کیا رمضان میں اس پر زکوٰۃ ادا کرے گی؟

جواب

اس کی دو صورتیں ہیں:

 اگر وہ پہلے سے صاحبِ نصاب تھی:
اگر عورت پہلے ہی صاحبِ نصاب تھی اور ہر سال رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتی ہے تو وہ سابقہ اموال کے ساتھ نئے خریدے گئے زیورات کی بھی زکوٰۃ ادا کرے گی، چاہے ان کی خریداری کو صرف 7 ماہ ہی کیوں نہ ہوئے ہوں۔ اگر وہ پہلے صاحبِ نصاب نہیں تھی:
اگر وہ پہلے صاحبِ نصاب نہیں تھی اور ان زیورات کی خریداری کے بعد نصاب کو پہنچی ہے تو اس زیور پر زکوٰۃ ایک قمری سال مکمل ہونے کے بعد واجب ہوگی۔ صرف رمضان آنے سے زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی بلکہ پورا سال گزرنا ضروری ہے۔

خلاصہ

سونا اور چاندی اگر نصاب کے برابر ہوں تو زیرِ استعمال ہونے کے باوجود زکوٰۃ واجب ہے۔
 زکوٰۃ کی شرح 2.5 فیصد ہے۔
قمری سال مکمل ہونا شرط ہے، سوائے اس صورت کے جب پہلے سے صاحبِ نصاب ہو۔

 


install suchtv android app on google app store

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *