شہید ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی جانشینی کیلئے سابق صدر حسن روحانی کا نام بھی زیرِ غور 



(ویب ڈیسک )ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا معاملہ ان دنوں زیرِ غور ہے۔

ایک جانب پاسبانِ انقلاب کے حمایت یافتہ شہید آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا نام سامنے آیا ہے تاہم ان کے انتخاب پر مجلسِ خبرگانِ رہبری کو تحفظات ہیں کیونکہ یہ موروثی جانشینی کو ناپسند کرتی ہے، ایسے میں سابق صدر حسن روحانی کا نام دوبارہ زیرِ بحث ہے۔

 2013ء سے 2021ء تک ایران کے صدر رہنے والے حسن روحانی ایک مذہبی رہنما اور قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے سیاست دان ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:2 ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی

 انہوں نے طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، قومی سلامتی کے نظام کا حصہ رہے اور جوہری مذاکرات میں مرکزی کردار بھی رہے۔

2013ء میں وہ ایک معتدل اور عملی سیاست دان کے طور پر ابھرے، جنہوں نے سفارت کاری کے ذریعے اقتصادی ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *