
(24 نیوز)آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ میں پاکستان ہاکی ٹیم کو دی جانے والی غیرمعیاری رہائش کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد کیا گیا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھلاڑیوں کو ایک ہی کمرے میں ٹھہرایا گیا جس میں متعدد بیڈ تھے۔
وائرل ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور قومی ٹیم کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ایونٹ میں شرکت کرنے والی قومی ٹیم کو مناسب رہائش اور سہولیات فراہم کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم کی ہوبارٹ کے ایک دور دراز علاقے میں رہائشگاہ کے اندرونی مناظر جہاں کھلاڑیوں کو سڈنی کے لیے واپسی پر رہنا پڑا @GovtofPakistan @TararAttaullah @SportsBoardPak pic.twitter.com/I3Etc4Ujdk
— Sohail Imran (@sohailimrangeo) February 16, 2026
صحافی اجمل جامی نے لکھا کہ افسوسناک اور شرمناک مناظر، قومی کھیل کے ساتھ ایسا کھلواڑ۔
ثنا اللہ خان نے لکھا کہ قومی کھیل کی قومی ٹیم کے ساتھ ایسا سلوک، اس کے ذمہ داروں کو لازمی سزا ملنی چاہیے اور ملک کا نام خراب کرنے والوں کے نام بھی قوم کو بتائے جائیں۔
نوید ستی نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی کھیل کے ساتھ جو کیا اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان سپورٹس بورڈ نے ہاکی فیڈریشن کو آسٹریلیا میں فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرانے کیلئے ہاکی فیڈریشن کو1 کروڑ سے زائد رقم دی تھی، لیکن اس کے برعکس ٹیم کو سہولتیں صفر ملیں۔
دوسری جانب پی ایچ ایف نے تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی تھی۔












Leave a Reply