(24نیوز) ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں انگلینڈ کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ انگلش ٹیم 19 اوورز میں 166 رنز بنا کر تمام بیٹر آؤٹ ہو گئے اور وہ اپنا اہم ترین گروپ میچ 30 رنز سے ہار گئے۔
انگلینڈ سے میچ جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز کی گروپ سی میں ٹاپ سلاٹ پر گرفت مضبوط ہو گئی، ان کا نیٹ رن ریٹ معمولی کم ہوا لیکن مقابل انگلینڈ کا نیٹ رن ریٹ بالکل برباد ہو گیا۔
اب انگلینڈ کو ٹی توینٹ یورلڈ کپ کے سپر 8 گروپ میں پہنچنے کے لئے پڑوسی سکاٹ لینڈ کے ساتھ رسہ کشی کرنا ہے۔ سکاٹ لینڈ کا رن ریٹ انگلینڈ سے بہت بہتر ہے۔
آج سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے پریما داسا انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں آج انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز آمنے سامنے ہوئے۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیل کر 20 اوورز میں 196 رنز بنائے اور انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لئے 197 رنز کا ٹارگٹ مل گیا۔

انگلینڈ کی بیٹنگ
انگلینڈ نے بیٹنگ کا آغاز تیز رفتار سے کیا اور پہلے اوور میں 7 رنز بنائے جن میں فِل سالٹ کا ایک چوکا ہ شامل تھا ، جوز بٹلر نے دو رنز بنائے۔
فل سالٹ چوتھے اوور میں 38 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ سالٹ نے 14گیندوں سے 30 رنز بنائے۔ سالٹ نے 2 چھکے اور 4 چوکے مارے۔
سالٹ کے آؤٹ ہونے کے باوجود پاور پلے کے چھ اوورز میں انگلینڈ نے تیز رفتار سے رنز بنائے۔ ساتویں اوور میں 74 کے مجموعہ پر انگلینڈ کی دوسری وکٹ گری ۔
جوز بٹلر 14 گیندوں سے 21 رنز بنا کر کلین بولڈ ہوئے۔ انہوں نے ایک چھکا مارا اوردو چوکے مارے۔
ٹام بینٹن 8 ویں اوور میں 2 رنز کے انفرادی سکور کے ساتھ آؤٹ ہوئے۔
جیکب بتھل 23 گیندوں سے 33 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بتھل نے چار چوکے مارے اور ایک چھکا بھی مارا۔ بتھل کی وکٹ 10 ویں اوور کی آخری گیند پر گری۔
ہیری بروک اور سام کورن نے انگلینڈ کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن تیز رنز بنانے کے دباؤ مین کھیلتے ہوئے بروک بھی آؤٹ ہو گئے۔ بروک نے 14 گیندوں سے 17 رنز بنائے،
وِل جیکس 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
جیمز اوور ٹن 6 گیندوں سے 5 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
جوفرا آرچر 4 گیندوں سے 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ لیام ڈاؤسن ایک ہی رن بنا سکے اور آؤٹ ہو گئے۔
عادل رشید صفر پر آؤٹ ہوئے۔
سام کورن 30 گیندوں سے 43 رنز بنائے۔ کورن نے 2 خوبصورت چھکے مارے اور 3 چوکے مارے۔

ویسٹ انڈیز کی باؤلنگ

بمبئی کے ونکھیڈا سٹیڈیم میں ہونے والے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں ویسٹ انڈیز کے مڈل آرڈر بیٹرز نے سخت جدوجہد کے بعد ابتدائی بحران پر قابو پا لیا اور اپنا مجموعہ 196 رنز تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے 13 چھکے مارے اور 13 ہی چوکے مارے۔ سب سے زیادہ 7 چھکے شرفان رتھرفورڈ نے مارے۔
ٹاس
انگلینڈ کے کیپٹن ہنری بروک نے ٹاس جیت لیا تھا۔ انہوں نے خود ٹارگٹ کو چیز کرنے کی آپشن لی اور ویسٹ انڈیز کو بیٹنگ کے لئے بلا لیا۔
ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ
پہلے دو اووروں میں ویسٹ انڈیز کی دو وکٹیں گر گئی تھیں۔
اوپنر برینڈن کنگ 1 رن بنا کر آؤٹ ہوئے اور کیپٹن شائی ہوپ نے ایک بھی رن نہیں بنایا۔
چھ اوورز کے پاور پلے میں ویسٹ انڈیز کے بیٹر صرف 55 رنز بنا سکے تھے۔ 10 ویں اوور میں روسٹن چیز کی چوتھی وکٹ گری تو ویسٹ انڈیز کا مجموعہ صرف 77 تھا۔
روسٹین چیز 29 گیندوں سے 34 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شمرون ہیتمیر نے بحال کی اچھی کوشش کی لیکن وہ 12 گیندوں سے 23 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
15 ویں اوور میں روومن پاویل کی پانچویں وکٹ گری تب ویسٹ انڈیز کا سکور 128 رنز تھا۔ 20 واں اوور ختم ہوا تو ویسٹ انڈیز 196 رنز کا مقابلہ کرنے کے لائق مجموعہ بنا چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خطرناک ترین گرین شرٹ عثمان طارق کے آج میچ میں اوورز کا جائزہ، مخالفوں کی نیندیں حرام
ویسٹ انڈیز کو انگلش باؤلرز کے دباؤ سے نکال کر بحال کرنے کے لئے شرفان رتھرفورڈ نے شاندار سٹرگل کی۔ انہوں نے 41 گیندوں سے 70 رنز بنانے کے لئے 7 چھکے مارے۔
ان کے ساتھ جوز ہولڈر نے دوسرے اینڈ سے اچھی کوشش کی ، ہولڈر آخری اوور میں کیچ آؤٹ ہوئے۔
ہولڈر نے 17 گیندوں سے 33 رنز بنائے، ان کو 4 چھکے مارنے کا موقع ملا، ہولڈر نے ایک چوکا بھی مارا۔

انگلینڈ کی باؤلنگ

آج کے میچ کی انگلینڈ کیلئے اہمیت
انگلینڈ گروپ سی مین پیچیدہ سورتحال سے دوچار ہے۔ گروپ میں تین ٹیموں نے ای کایک میچ جیتا اور دو دو پوائنٹ حاصل کئے لیکن گروپ میں ٹاپ سکورر ویسٹ انڈیز ہے اور دوسری پوزیشن سکلاٹ لینڈ کی ہے۔ آج میچ ویسٹ انڈیز جیت گیا تو انگلینڈ کے لئے گروپ میں دوسری ٹاپ ٹیم بننا بھی مشکل ہو جائے گا کیونکہ نیٹ رن ریٹ کی دوڑ میں وہ سکاٹ لینڈ سے مزید پیچھے چلے جائیں گے۔
آج کا میچ جیت کر انگلینڈ گروپ میں پہلی سلاٹ حاصل کر کے آئندہ میچوں کا نتیجہ کچھ بھی ہو ٹاپ ایٹ راؤنڈ تک جانے کی امید کر سکتا ہے۔ آج کا میچ ہارنے کے بعد انہیں سکاٹ لینڈ سے بہتر رن ریت حاصل کر کے گروپ سی کی دوسری ٹاپ سکورر ٹیم بننے کی جدوجہد میں کھپنا پڑے گا۔











Leave a Reply