کرکٹ  شریف لوگوں کا  کھیل ہےاور اقوام کی باہمی محبت اور قربتیں بڑھانے کا ذریعہ ہے، محسن نقوی


(24نیوز) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین محسن نقوی نے کرکٹ کے فروغ کے لئے سری لنکا کر کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کولمبو میں اپنے اعزاز میں سری لنکا کرکٹ کی جانب سے خصوصی ملاقات کی تقریب  میں محسن نقوی نے کہا کہ  کرکٹ کے لئے سری لنکا کے کرکٹ بورڈ کی بڑی خدمات ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا کے کرکٹ بورڈز میں کھیل کے فروغ کے لئے قریبی تعاون اور مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے۔

سری لنکا کرکٹ نے صدر اور دیگر عہدیداروں نے محسن نقوی کو کھیل کے فروغ کیلئےان کی  گراں قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔

 محسن نقوی اور ان کے ساتھ جانے والے پاکستانی وفد کے ارکان کے ساتھ  ملاقات میں سری لنکا کرکٹ کے صدر شامئے سلوا اور دیگر اعلی عہدیداران کے ساتھ سری لنکا کے  کھیلوں کے وزیر سنیل سناوی، سیکرٹری دفاع سمپاتھ تویا کونتھسے ،  سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایشلے ڈی سلوا۔ سجیوا گوڈالیاڈا اور مکرکٹ کے سینئیر ایکسپرٹ بھی موقع پر موجود تھے۔

پاکستان کسے محسن نقوی کے ساتھ سری لنکا جانے والے  اوورسیز پاکستانیز  کے وفاقی چوہدری سالک حسین، پاکستان کرکت بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد اور پاکستان سپر لیگ کے  چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر بھی اس تقریب  میں شریک  ہوئے۔

یہ بھی پڑھیئے: عثمان طارق کا خوف؛ بھارتی بیٹر اس کی بال کھیلنے سے انکار کریں گے تو کیا ہوگا؟ ایکسپرٹ کا جواب آگیا 

اس تقریب میں سری لنکا ور پاکستان دونوں دوست ممالک کے  کرکٹ بورڈز نے  کرکٹ کے فروغ کیلئے باہمی تعاون کی طویل تاریخ کا حوالہ دیا اور اس تعاون کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سری لنکا کرکٹ  کے پریذیڈنٹ نے کولمبو آمد پر محسن نقوی  اور ان کے ساتھ جانے والے پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا ۔

یہ بھی پڑھیں: خطرناک ترین گرین شرٹ عثمان طارق کے آج میچ میں اوورز کا جائزہ، مخالفوں کی نیندیں حرام

 محسن نقوی  نے تقریب مین گفتگو کرتے ہوئے کہا،  کرکٹ  شریف لوگوں کا  کھیل ہے اور یہ اقوام کی باہمی محبت اور قربتیں بڑھانے کا بھی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا، مجھے  کولمبو آکر  بہت خوشی ہوئی ۔

محسن نقوی  نے  کولمبو میں شاندار مہمان نوازی کرنے پر سری لنکا کرکٹ کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان vs انڈیا؛ ٹی ٹوینٹی کرکٹ کا بہترین بیٹ کس کے پاس ہے، پلہ کس کا بھاری رہےگا؟ 





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *