
(24نیوز) کولمبو میں بارش رکنے کے بعد ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ راؤنڈ کا میچ شروع ہو گیا تو وکٹ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گی۔ وکٹ کا رویہ کئی گھنٹے بدلا رہے گا، اس بدلے ہوئے رویئے کا فائدہ فاسٹ باؤلرز کو ہو گا۔ بارش دوبارہ نہ ہوئی تو نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کے دوران گرین شرٹس سپنرز کو اضافی فائدے ملیں گے۔
کولمبو میں بارش معمول کی بات ہے لیکن پریما داسا کرکت سٹیڈیم میں ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کا میچ کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ آج میچ ہے اور بارش ہو رہی ہے، سٹیڈیم میں گراؤنڈ کو بارش سے بچانے کا کافی انتظام ہے، گراؤنڈ کو پلاسٹک شیٹس سے مکمل ڈھانپا گیا ہے، پانی کو مسلسل نکالنے کا انتظام بہترین ہے لیکن بارش کے بعد میچ ہو تو وکٹ پر اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ بارش کے بعد میچ ہوا تو وکٹ کیسے بی ہیوو کرے گی، یہ فینز اور ایکسپرٹس کے لئے یکساں دلچسپی کا سوال ہے۔
بارش رکنے پر میچ ہوا تو وکٹ کا رویہ کیا ہو گا؟
آر پریماداسا اسٹیڈیم میں، بارش صرف گراؤنڈ کو گیلا نہیں کرتی، یہ چند گھنٹوں کے لیے پچ کا اسکرپٹ دوبارہ لکھتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ بارش کے فوراً بعد: وکٹ کیسا سلوک کرتی ہے۔
نمی = سیمرز کے لیے مدد کرے گی۔ ابتدائی مرحلہ میں یہ مدد نمایاں ہو گی۔ پاکستان کی باری آنے تک بارش دوبارہ نہ ہوئی تو یئہ فیکٹر کم ہو چکا ہو گا۔
وکٹ کو بارش سے بچانے کے لئے پلاسٹک شیتس سے ڈھکا گیا ہے لیکن شیٹس اترنے کے بعد بھی وکٹ کی سطح کے نیچے اضافی نمی رہتی ہے۔
فاسٹ باؤلرز کو ایدوانٹیج ملتا ہے
نئی بال سے فاسٹ باؤلنگ کرنے والے باؤلرز کو ہلکی سی سیم حرکت کی مدد مل جاتی ہے۔ ان کی بال کبھی کبھی وکٹ سے باہر بھی نکل سکتی ہے۔
بارش کے فورا! بعد نئی گیند کولمبو کی اس خوبصورت وکت کے معمول کے حالات سے کچھ زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔
بارش کے فوراً بعد کے اوورز میں گرین شرٹس کے اوپنر بیٹر خود کو ماربل کے قدرے پھسلن والے فرش پر چلنے کی طرح مشکل میں محسوس کر سکتے ہیں۔
باؤنڈریز وہیں رہیں گی لیکن عملاً دور ہو جائیں گی
بارش کے بعد گراؤنڈ میں 2. آؤٹ فیلڈ سست ہو جاتا ہے۔ اس کا نقصان بیترز کو ہو گا جن کی رولنگ شاٹس کو باؤنڈری تک پہنچنے میں دشواری ہو گی اور فیلڈرز کو باؤنڈری کی طرف جاتی بال تک پہنچنے کے لئے کچھ زیادہ مہلت مک جائے گی۔
بارش کے بعد پلاسٹک کور اترتے ہیں تو گراؤنڈ پر موجود گھاس نم رہتی ہے، اس لیے باؤنڈریز تک گیند کو پہنچانے کے لئے بیترز کو زیادہ قوت کے ساتھ شاٹ مارنا پڑیں گے۔
بیٹر کی ٹائمنگ طاقت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ مناسب وقت پر ماری گئی پاور فل شاٹس بہرحال باؤنڈری عبور کر ہی لیں گی۔
نمی اور ممکنہ جھول
بارش کے بعد کولمبو کی تیز ہوا سوئنگ باؤلنگ میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر پہلے 3-5 اوورز میں بال زیادہ سوِنگ ہو سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو گرین شرٹس کے اوپنرز کو پاور پلے کی مخصوص فیلڈنگ پلیسنگ سے فائدہ اٹھانے کے لئے گیپ شاٹس مارنے میں قدرے دشواری ہو گی۔
بارش کے بعد پریما داسا سٹیڈیم کی پچ جلدی ٹھیک ہو جاتی ہے
یہ اہم ہے کہ پریماداسا طویل مدتی گرین سیمر نہیں ہے۔
جیسے ہی یہ خشک ہو جاتا ہے، یہ قدرے سول اور قدرے دو طرفہ ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال میں سپنرز کھیل میں زیادہ بہتر پوزیشن میں آنے لگتے ہیں۔
تو فائدہ بدل جاتا ہے۔ ابتدائی اوورز میں فاسٹ باؤلرز کو فائدہ ہو گا اور کچھ اوورز گزرنے کے بعد درمیانی اوورز میں سپنرز فائدے میں آجائیں گے۔
ڈیو فیکٹر/ اوس کا عنصر
بارش کے بعد کے موسم اور شام کی طبعی فطرت کے سبب رات ڈھنے کے ساتھ ہوا مین نمی دوہرے اثر کی حامل ہو جائے گی۔
ڈیو کے دوران گیند گیلی ہو جاتی ہے اور گرفت میں مشکل ہو جاتی ہے۔ سپنرز بعد میں بھگتتے ہیں۔ بیٹرز کی باری ہوئی شاٹ کا پیچھا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
امکانات کا خلاصہ
بارش رک گئی، میچ شروع ہو گیا تو پہلے 3-5 اوور گرین شرٹس کی بیٹنگ کے لیے مشکل ہوں گے۔
درمیانی اوور کے دوران گراؤنڈ کی سطح بال کو سست کر رہی ہو گی۔ وکٹ سپنرز کے لئے فرینڈلی بی ہیوو کرے گ۔
ڈیتھ اوورز آنے تک ڈیو فیکٹر شامل ہو جائے گا اور ٹارگٹ کو چیز کرنے والی ٹیم کو بھی اضافی فائدہ مل جائے گا جو آج کے میچ کے لئے نیوزی لینڈ ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ “پریمداسا میں، بارش کھیل کو برباد نہیں کرتی، یہ اس کی شکل بدل دیتی ہے۔ پچ نم ہو جاتی ہے، سیمرز ک یمدد کرتی ہے لیکن شام ہوتے ہی سپنرز کو سکرپٹ سونپ دیتی ہے۔”
یہ بھی پڑھیئے: سپر ایٹ راؤنڈ کے پہلے میچ کا ٹاس پاکستان نے جیت لیا، ٹاس ہوتے ہی بارش ہو گئی












Leave a Reply