15 فروری کو پاکستان اور انڈیا کا میچ بھارت کیلئے خطرناک سرپرائز تیار!


 (24نیوز) کولمبو میں پاکستان اور امریکہ کے میچ کی خاص سنسیشن عثمان طارق تھے۔ اس خطرناک سپن باؤلر نے  27 رنز دے کر  3 وکٹیں لیں اور پاکستان کو  اچھے نیٹ رن ریٹ کے ساتھ میچ جیتنے  میں کامیابی دلانے کے لئے صاحبزادہ فرحان جتنا ہی اہم کردار ادا کیا۔

عثمان طارق کو کیپٹن سلمان علی آغا  آج کے میچ میں  ایک دوسرے اہم باؤلر سلمان مرزا  کو ڈراپ کر کے لائے تھے۔  سلمان مرزا نے پہلے میچ میں  3 وکٹیں لی تھیں۔ آج کیپٹن نے ان کو باہر بٹھانے کا غیر معمولی فیصلہ کیا اور ان کی جگہ عثمان  طارق کو لائے۔ عثمان نے جو جلوہ دکھایا اس نے سٹیڈیم میں اور لائیو سٹریمز اور ٹی وی چینلز سے میچ دیکھنے والے کرکٹ لوورز کو بس مسحور ہی کر ڈالا۔

عثمان طارق کی گیندوں کو کھیلنے میں امریکی بیٹرز کو مشکل پیش آئی۔ 12 ویں اوور میں ان کی بال پر  ملند کمار کا لانگ آن پر کیچ ہاتھوں سے ڈراپ ہو گیا اور پاکستان کو چوتھی وکٹ  اچھے وقت پر ملتے ملتے رہ گئی۔

14 ویں اوور میں عثمان طارق کو ایک چوکا لگا۔ لیکن اوور میں صرف 7 ہی رنز بنے۔

 16 ویں اوور میں  بال پھر عثمان طارق کو ملی۔ ملند کمار نے  چوتھی بال پر انہیں عین اسی جگہ چھکا مارا جہاں پہلے ملند کمار کا کیچ ڈراپ ہوا تھا۔ پانچویں بال پر عثمان طارق نے ملند کو  شارٹ تھرڈ میں کیچ آؤٹ کروا دیا۔ یہ کیچ  شاہین آفریدی نے لیا۔ اس اوور میں عثمان طارق کو  10 رنز پڑ گئے لیکن  امریکہ کے ایک اچھے بیٹ کو انہوں نے واپس بھیج دیا۔

17 ویاں اوور کیپٹن نے ابرار سے کروایا۔  وہ  سنجے کرشنا موررتھی کو صفر پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن ابرار کو اس اوور میں شبھم رانجن کے بیٹ سے ایک چوکے سمیت  7 رنز پڑے ۔

18 واں اوور شاہین آفریدی کو ملا تو انہیں پہلی دو بالز پر  شبھم رانجن سے 2  چھکے پڑ گئے۔ تین بالز پر تین سنگل بنیں اور  آخری بال پر  ہرمیت سنگھ نے چوکا مار دیا۔ شاہین کا یہ اوور گرین شرٹس کو 19 رنز میں پڑا۔ اور اچھا نیٹ رن ریٹ حاصل کرنے کی کوشش کو شدید دھچکا لگا۔

19 ویں اوور میں کیپٹن سلمان علی آغا نے ایک بار پھر عثمان طارق کو بال دی۔

اس جادوگر نے ڈیتھ اوورز مین شمار ہونے والے اس اوور کو خوبصورت آرٹسٹک باؤلنگ کی نمائش کا ذریعہ بنایا۔ اپنے اس خوبصورت اوور میں  تین  بالز پر سنگلز کھائیں اور چوتھی بال پر  ہرمیت سنگھ کو شکار کر لیا۔  یہاں وہ رکا نہیں بلکہ پانچویں بال پر نئے آنے والے بیٹر محمد محسن کو بھی پویلین لوٹا دیا۔ 

ہیٹ ٹرِک کا چانس

 اوور کی آخری بال پر عثمان طارق کی ہیٹ ٹرک بننے کا چانس تھا، یہ بال  شیدلی وین شالکویک  بیٹ ہو گئے اور بال ان کے بیٹ سے بس  بال برابر دوری سے گزر کر وکٹ کیپر  عثمان خان کے  گلوز میں چلی گئی۔ عثمان طارق ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کی یقینی ہیٹ ٹرک بناتے بناتے رہ گئے۔

آخری اوور شاہین آفریدی نے کیا۔  انہوں نے پہلی بال سے شبھم رنجنے کا چوکا کروا کر ان کی ففٹی کروائی اور دوسری بال پر شبھم رنجنے کو کاٹ بی ہائینڈ وکٹس کروا کر واپس بھیج دیا۔ رنجنے آج امریکہ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر تھے۔

عثمان طارق کا باؤلنگ ایکشن

عثمان طارق کی باؤلنگ کو سمجھ نہ پانے اور بے بسی کا نمونہ بن کر رہ جانے والے بیترز اور ان کے ٹرینرز نے عثمان طارق کے سٹائل اور بیٹنگ ایکشن پر شکایتین کر کے اپنی شرمندگی چھپانے کی کوششیں کیں۔ آئی سی سی نے دو مرتبہ  اس نئے نابغہ باؤلر کے باؤلنگ ایکشن کا گہرا جائزہ لینے کے لئے کمیٹیاں بٹھائیں۔ دونوں کمیٹیوں کو اعتراض کے لائق کچھ نہ ملا۔ اس چھلنی سے گزرنے کے بعد اب عثمان طارق ٹی توینٹی ورلڈ کپ کے ایرینا میں آج سامنے آئے اور آج ہی  مخالفوں کے چھکے چھڑا دیئے۔

 مخالفوں کو 15 فروری تک نیند نہیں آئے گی

 جو  آج سامنے آئے وہ تو آج ہی مشکل سے دوچار ہوئے، میچ ہارے اور ہوٹیل جا کر سو گئے۔ لیکن عثمان طارق کا خوف اُن کو  کئی روز تک سونے نہیں دے گا جن کو  15 فروری کو اس   ڈسٹرائیر کا سامنا کرنا ہے۔ 

اگر کیپٹن سلمان علی آغا نے  15 فروری کے میچ میں عثمان طارق کو  بال پکڑا دی تو  کئی بھارتی بیٹرز کی کرکری ہو جانا یقینی ہو گا۔ کیونکہ عثمان طارق مارتا تو جو ہے سو ہے، وہ ڈراتا بہت ہے۔  اس میچ میں عثمان طارق  سرپرائز ہتھیار ہو سکتے ہیں کیونکہ  بھارت کے بیٹرز خواہ کیسے ہی منجھے ہوئے ہیں، انہوں نے عثمان طارق کی آرٹسٹک سپن بالز کا مزا کبھی نہیں چکھا۔ وہ تو اس کے بال پھینکنے کے لئے آنے کا سٹائل ہی دیکھنے میں الجھے رہیں گے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *