ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ میں گلابی گیند کیوں استعمال کی جاتی ہے؟



( ویب ڈیسک )دن کے ٹیسٹ میچز میں ریڈ بال کا استعمال ہوتا ہے مگر یہ ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ میں لال کے بجائے پینک گیند کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے، کیا آپ نے کبھی سوچا؟

رپورٹ کے مطابق گلابی رنگ کی گیند متعارف کرانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ فلڈ لائٹس میں یعنی رات کے اوقات میں گیند بہتر نظر آئے کیونکہ لال گیند فلڈ لائٹس میں واضح دکھائی نہیں دیتی ہے۔

ٹیسٹ میچ میں سفید گیند استعمال نہیں کی جاسکتی کیونکہ کھلاڑی سفید جرسی پہنتے ہیں لہٰذا گیند کو واضح رکھنے کے لیے اس کا کٹ سے رنگ مختلف رکھا گیا ہے۔

پنک بال کی خصوصیات کی بات کی جائے تو پنک بال کو نہ صرف بہترنظر آنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اس کا رویہ بھی عام گیند سے مختلف ہے، یہ گیند زیادہ سوئنگ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نوکریاں ہی نوکریاں ، بیروزگاروں کے بڑی  خوشخبری آگئی

خاص طور پر رات کے سیشن میں یہ گیند بے حد خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کا آخری سیشن بولرز کے حق میں جاتا ہے اور ٹیمیں دباؤ میں آکر تیز رفتاری سے پویلین لوٹتی ہیں۔

خیال رہے کہ ایشیز سیریز میں برسبن کے مقام پر ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ جاری ہے جہاں آسٹریلوی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 81 رنز کی برتری پر ہے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *