ویڈیو :مچل سٹاک نے ICCپر سوالات اٹھا دیئے



(24 نیوز)آسٹریلیا کے مایہ ناز فاسٹ بولر مچل سٹارک نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں ڈی آر ایس (ڈسیژن ریویو سسٹم) کی ادائیگی آئی سی سی کو خود کرنی چاہیے اور تمام میچز میں ایک ہی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے کو استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ فیصلوں میں سامنے آنے والی تضادات سے بچا جا سکے۔

یہ بیان ایشز سیریز کے دوران سامنے آنے والے متنازع فیصلوں کے بعد آیا ہے، جہاں آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں ٹیموں نے ریئل ٹائم سنیکو (RTS) سے متعلق کئی فیصلوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔

 ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے دوران معاملات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب انگلینڈ کی جانب سے الیکس کیری کے آؤٹ ہونے پر لیا گیا ریویو آپریٹر کی غلطی کے باعث غلط ثابت ہوا، جسے بعد ازاں میچ ریفری جیف کرو نے دوبارہ بحال کر دیا۔

اس واقعے کے بعد اگلے دن ایک اور متنازع لمحہ سامنے آیا، جس میں مچل سٹارک کو اسٹمپ مائیک پر یہ کہتے سنا گیا کہ “اسنیکو کو فارغ کر دینا چاہیے”۔

اس صورتحال کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور کرکٹ آسٹریلیا نے آئی سی سی سے سسٹم اور پروٹوکولز پر نظرثانی کے لیے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 میزبان براڈکاسٹرز کی جانب سے ڈی آر ایس کے اخراجات برداشت کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔

مچل اسٹارک نے کہا کہ یہ صورتحال کھلاڑیوں، شائقین، آفیشلز اور براڈکاسٹرز سب کے لیے مایوس کن ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ جب امپائرز ڈی آر ایس استعمال کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری اور ادائیگی آئی سی سی کو کرنی چاہیے۔

 تمام سیریز میں ایک ہی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے کنفیوژن اور تناؤ کم ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی نے دو آواز پر مبنی ایج ڈیٹیکشن ٹیکنالوجیز کی منظوری دی ہوئی ہے،

ان میں آسٹریلیا میں استعمال ہونے والا RTS اور دنیا کے دیگر حصوں میں استعمال ہونے والا الٹرا ایج شامل ہے۔

 سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ بھی RTS پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔

آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے محتاط انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ RTS اور الٹرا ایج میں فرق محسوس ہوتا ہے۔

 بعض اوقات یہ نظام مکمل طور پر مستقل نظر نہیں آتا، تاہم کھلاڑیوں کو امپائر کے فیصلے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔

بی بی ایل میں الٹرا ایج استعمال ہونے کے باوجود، سیریز کے دوران ٹیکنالوجی تبدیل کرنے کی اجازت نہیں، جس کے باعث میلبرن اور سڈنی ٹیسٹس میں RTS ہی استعمال کیا جائے گا۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *