معتبر عالمی جریدوں کے تجزیہ کاروں نے پاکستان کو مرکز نگاہ بنا لیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے لیے عسکری و سفارتی محاذ پر فرنٹ فٹ پر کھیلے۔
“پاکستان نے وائٹ ہاؤس پر کیسے اثر جمایا” کے عنوان سے آرٹیکل میں برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف نے بھی پاکستان کی سفارتی وکٹری پر مہر ثبت کر دی۔ ایبی گیٹ حملے کے ملزم کی امریکا حوالگی ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات کا بڑا ٹرننگ پوائنٹ بنی۔
امریکی کانگریس سے خطاب میں ٹرمپ نے دہشتگردی کے خلاف عملی تعاون پر پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ کے پہلے دور کی تلخی کے باوجود پاکستان نے واشنگٹن میں دوبارہ مضبوط جگہ بنا لی۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق واشنگٹن میں بھارت کی شدید لابنگ کے باوجود اس بار پاکستان کو واضح سفارتی سبقت حاصل ہوئی۔ پاکستان کو کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر تجارتی ٹیرف رعایتیں دی گئیں،
وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اوول آفس میں براہ راست رسائی ملی۔ پاکستان کی موثر سفارتکاری نے وائٹ ہاؤس کا ماحول بدل دیا۔
پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا جانا غیر معمولی سفارتی اقدام ثابت ہوا۔ پاکستان نے محض بیانات نہیں بلکہ ٹھوس نتائج دے کر اعتماد حاصل کیا۔ وائٹ ہاؤس کی کاؤنٹر ٹیررازم ترجیحات میں داعش خراسان کا کمانڈر جعفر نمایاں ہدف تھا۔
ایبی گیٹ حملے کا ملزم گرفتاری کے صرف دو دن بعد امریکا روانہ کر دیا گیا۔ سینئر پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہی لمحہ پاک امریکا تعلقات میں تبدیلی کی علامت بنا۔ سابق امریکی عہدیدار نے اسے پاکستان کی سنجیدہ نیت کا طاقتور اشارہ قرار دیا۔
دی ٹیلی گراف کے آرٹیکل کے مطابق پہلگام، کشمیر واقعے کے بعد خطے میں جنگ کا خطرہ حقیقی سطح پر بڑھ گیا۔ بھارت نے امریکی ثالثی کے امکان کو کھلے الفاظ میں مسترد کر دیا۔ پاکستان نے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا، وائٹ ہاؤس کو غیر روایتی سفارتکاری سے ہینڈل کیا۔
جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے نجی اور آف دی ریکارڈ ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں فیلڈمارشل نے ٹرمپ کو کیسے گرویدہ کیا، دی ٹیلی گراف نے کھلے الفاظ میں ذکر کر دیا۔ ٹرمپ ملاقات کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مسلسل تعریف کرتے رہے۔
غزہ سیز فائر موقع پر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا۔ پاکستان نے خود کو مشرق وسطیٰ میں مؤثر اور ذمہ دار اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر منوایا۔ جی سی سی ممالک سے قربت اور ایران سے متوازن تعلقات پاکستان کے لیے سفارتی پلس بنے۔
پاکستان نے امریکا کے لیے اہم معدنیات کے مسئلے کا عملی حل پیش کیا۔ ستمبر میں چھ کھرب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر پر پاک امریکا تعاون کا ایم او یو سائن ہونا بڑا عالمی سرپرائز بنا۔ پاکستان کی مؤثر سفارتکاری نے واشنگٹن میں اسے دوبارہ مرکزی حیثیت دلا دی ہے













Leave a Reply