
(24نیوز) بھارت کرکٹ کو سیاست کا ہتھیار بنا چکا ہے، اس کا ثبوت مستفیض الرحمان کو انڈین پریمر لیگ سے الگ کرنے کے فیصلے سے ہو۔ اب یہ سامنے نہیں آ رہا کہ اس غیر معمولی فیصلہ کا بھارت میں ذمہ دار کون ہے۔
انڈین میڈیا میں یہ ڈسکس کیا جا رہا ہے کہ مستفیض کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کہاں ہوا؟ بھارتی میڈیا میں میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کی ٹیم سے نکلوانے کا حکم بی سدی سی آئی سے آیا لیکن یہ پتہ نہیں چل رہا کہ بی سی سی آئی کے کس اجلاس میں کس نے یہ فیصلہ کیا۔
کہا جا رہا ہے کہ مستفیض الرحمان کو بنگلہ دیش کے ساتھ تعلق ہونے کی وجہ سے آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ بی سی سی آئی نے اعلیٰ ترین سطح پر کیا لیکن نہ بی سی سی آئی یہ بتا رہا ہے کہ میڈیا بتا پا رہا ہے کہ بی سی سی آئی کی اعلیٰ سطح پر کوئی میٹنگ ہوئے بغیر کس نے یہ فیصلہ کر لیا۔
بھارتی میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق بنگلہ ادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ریلیز کرنے کے معاملے کے بعد انڈین پریمیئر لیگ کی شفافیت پر ایک بار پھر سوال اٹھ رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مستفیض کو آئی پی ایل سے ریلیز کرنے کے فیصلے کیلئے کوئی باضابطہ اعلان کردہ اجلاس ہی نہیں بلایا گیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ بورڈ کی اعلیٰ سطح پر کیا گیا۔
دوسری طرف بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک آفیشل نے انکشاف کیا کہ مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنے کے فیصلے کا ہمیں بھی میڈیا سے پتہ چلا نہ کوئی بات چیت ہوئی نہ صلاح مشورہ کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اگر کوئی میٹنگ ہوئی بھی تو اس میٹنگ میں بھارتی بورڈ اور آئی پی ایل گورننگ کونسل کے تمام ارکان موجود نہیں تھے کیونکہ وہ لوگ بتا رہے ہیں کہ ہمیں اس فیصلے یا میٹنگ کے متعلق کچھ پتہ نہیں،۔
جو بات سامنے ہے وہ یہ ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری دیوا جیت سائیکیا نے مستفیض الرحمان کوآئی پی ایل سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ بھارت کی درجنوں میڈیا آؤ ٹ لیٹس میں سے کسی نے بھی بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیوا جیت سے یہ نہیں پوچھا کہ اسے کس نے یہ حکم دیا تھا کہ مستفیض الرحمان کو کلکتہ نائٹ رائیڈرز سے نکلوا دیا جائے اور آئی پی ایل سے نکلوا دیا جائے۔
اب تک بی سی سی آئی کے اس فیصلہ کے اصل ذمہ دار کا نام اور دیگر تفصیل سامنے نہ آنے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو رہا ہے کہ بھارت کا کرکٹ بورڈ نئی دہلی کی سیاست کا آلہ کار بن کر کام کر رہا ہے اور اس کے اہم فیصلوں کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں۔
بی سی سی آئی نے گزشتہ سال پاکستان مین آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کھیلنے کے لئے بھارتی کرکت ٹیم کو نہ بھیجنے کا فیصلہ بھی ایسے ہی کیا تھا اور اس کے بعد ایشیا کپ میں متحدہ عرب امارات مین ہو رہے میچوں میں پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں سے اپنے کھلاڑیوں کو ہاتھ ملانے سے روکنے کا اخلاق سے گرا ہوا فیسلہ بھی ایسے ہی کسی پراسرار حکم کے تحت کیا تھا۔
مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے بلا جواز نکال دیئے جانے کے بعد بنگلا دیش کرکٹ نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے اپنی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس اہم ورلڈ کپ میں اپنے میچ بھارت سے باہر فکس کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔
پاکستان پہلے ہی بھارت کے چیمپئینز ٹرافی کھیلنے کے لئے ٹیم کو نہ بھیجنے کا بدلہ لینے کے لئے اپنی قومی ٹی ٹوینٹی ٹیم کو بھارت نہین بھیج رہا اور طے شدہ ارینجمنٹ کے تحت بھارت کا کرکٹ بورڈ پاکستان کے تمام میچ غیر جانبدار وینیو پر شیڈول کرنے کا پابند ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب یہ ہی مطالبہ بنگلہ دیش کر رہا ہے اور وجہ وہی سکیورٹی مسائل کو قرار دے رہا ہے جن کا بہانہ بنا کر بھارت نے اپنی ٹیم چیمپئینز ٹرافی کیلئے لاہور نہیں بھیجی تھی۔ بنگلہ دیش کے اس مطالبے پر بھارت کا کرکٹ بورڈ یہ کہہ رہا ہے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں کیونکہ انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔
اس دوران بنگلہ دیش کی حکومت نے آئی پی ایل کے میچ بنگلہ دیش میں کسی چینل سے نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
ٹی ٹوینٹی فارمیٹ کے سپر سٹار باؤلر مستفیض الرحمن کا کلکتہ نائٹ رائیڈرزکے ساتھ9.20 کروڑ بھارتی روپے کے عوض کنٹریکٹ ہوا تھا۔












Leave a Reply