
(24 نیوز)سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر ڈیمن مارٹن نے کوما سے واپس آنے کے بعد پہلا بیان جاری کر دیا ہے۔
ڈیمن مارٹن نے سوشل میڈیا پر اپنی صحت اور بیتے دنوں پر بات کی اور ساحل سمندر پر کھڑے ہو کر اپنی تصویر بھی شیئرکی۔
انہوں نے کہا کہ 27 دسمبر کو میری زندگی مجھ سے لے لی گئی تھی، میں اس خطرناک بیماری سے کوما کی حالت میں 8 دنوں تک لڑتا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے زندہ بچنے کے صرف 50/50 امکانات دیے گئے تھے۔
کوما سے واپس آنے کے بعد میں چلنے اور بولنے کے قابل نہیں تھا، اس کے 4 دن بعد میں نے ڈاکٹرز کو حیران کرتے ہوئے چلنا بھی شروع کیا اور بات بھی کی۔
ڈیمن مارٹن نے کہا کہ گھر واپس آنے اور ساحل سمندر کے ریت پر اپنے پاؤں رکھنے پر بےحد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
This post is A BIG thank you to ALL my family, friends and so many other people who have reached out to me!
On the 27th of December 2025 my life was taken out of my hands…when meningitis took over my brain, & unbeknownst to me I was placed into a paralysed coma for 8 days to… pic.twitter.com/3Mt3DS6MZY
— Damien Martyn (@damienmartyn) January 17, 2026
اُن تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مشکل وقت میں مجھے اور میرے خاندان کو سپورٹ کیا۔
سابق آسٹریلوی کرکٹر کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے مجھے یہ یاد دلایا کہ زندگی کتنی نازک ہے۔
سب کچھ کتنی تیزی سے بدل سکتا ہے اور وقت کتنا قیمتی ہے، 2026 کے لیے تیار ہو جاؤ… میں واپس آ گیا ہوں۔
واضح رہے کہ کرسمس ڈے پرڈیمن مارٹن کی گردن توڑ بخار کی وجہ سے حالت تشویشناک ہو گئی تھی وہ کومے میں چلے گئے تھے اور برسبین کے ہسپتال میں آئی سی یو داخل رہے۔
ڈیمین مارٹن 2003 ورلڈ کپ فاتح ٹیم کے رکن تھے، انہوں نے 67 ٹیسٹ میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی جبکہ انہوں نے 208 ون ڈے اور 4 ٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیلے۔












Leave a Reply