امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارت کے حالیہ اقدامات پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان فیصلوں سے جنوبی ایشیا میں علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست نے نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی یکطرفہ معطلی خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے بھارت کے دُلہستی اسٹیج۔II منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پانی کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
امریکی جریدے نے خبردار کیا کہ پانی کا بحران جنوبی ایشیا میں ایک بڑے انسانی خطرے کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ جریدے کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں فوڈ سیکیورٹی کی بنیادی ضمانت ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے زور دیا کہ بھارت پر مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے مہیا کرنا قانونی طور پر لازم ہے، اور پانی کو ہتھیار بنانے کی بھارتی کوششیں عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی قانون کی نظر میں ناقابل قبول ہیں۔













Leave a Reply