
(ویب ڈیسک) آپ اگر کرکٹ کے دیوانے ہیں تو شاید آپ یقین نہ کریں لیکن کرکٹ کی دنیا میں پانچ ایسے بالرز ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے پورے ٹیسٹ کیریئر میں 5,000 سے زیادہ گیندیں پھینکی لیکن کسی بھی بلے باز کی ہمت نہیں ہوئی کہ ان کی گیند کو باؤنڈری کے باہر چھکے کیلئے بھیج سکے۔
ان عظیم لیجنڈ کرکٹرز کے بارے میں جان کر آپ ضرور خوش ہوں گے کیونکہ اب جدید کرکٹ ہر فارمیٹ میں چھکوں کی بارش ہونے لگی ہے،رپورٹ کے مطابق کرکٹ کا سب سے پرانا فارمیٹ ٹیسٹ آج بھی نوجوانوں کی پہلی پسند ہے، اس فارمیٹ کو کھیل کا سب سے خالص اور چیلنجنگ فارمیٹ سمجھا جاتا ہے جہاں ایک گیندباز کی اصل پرکھ اس کی مستقل مزاجی اور درستگی سے ہوتی ہے،جدید کرکٹ میں جہاں ٹی-20 کے اثرات کی وجہ سے ٹیسٹ میچز میں بھی چھکوں کی بارش ہونے لگی ہے،وہاں کرکٹ کی تاریخ کے صفحات میں کچھ ایسے عظیم بولرز کے نام درج ہیں جن کے سامنے دنیا کے سب سے بڑے بیٹسمین بھی بے بس نظر آئے،یہ سننے میں ناقابل یقین لگتا ہے لیکن دنیا میں پانچ ایسے گیند باز ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے پورے ٹیسٹ کیریئر میں 5,000 سے زیادہ گیندیں پھینکی لیکن کسی بھی بلے باز کی ہمت نہیں ہوئی کہ ان کی گیند کو باؤنڈری کے باہر چھکے کے لیے بھیج سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اس منفرد اور نایاب کلب میں دو پاکستانی گیندبازوں کا ہونا اسے اور بھی دلچسپ بناتا ہے۔ پاکستان کے مدثر نظر اور محمود حسین نے اپنی تیز و جارحانہ گیند بازی سے بلے بازوں کو قابو میں رکھا اور کبھی چھکا نہ لگنے کا شاندار ریکارڈ بنایا،ان کے ساتھ آسٹریلیا کے عظیم آل راؤنڈر کیتھ ملر جیسے کھلاڑی بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ آج کے دور میں جہاں باؤنڈریز چھوٹی اور بلے بھاری ہو گئے ہیں، ان بولرز کا یہ ڈسپلن کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔
اس فہرست میں شامل آسٹریلیا کے آل راؤنڈر کیتھ ملر (Keith Miller) نے 1946 سے 1956 تک 55 ٹیسٹ میچز کھیلے۔ انہوں نے اپنی تیز بولنگ سے اس دوران 170 وکٹیں حاصل کیں، اس کے علاوہ بیٹنگ میں بھی 2,958 رنز بنائے جن میں سات سنچریز شامل تھیں۔
دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں شمار اس عظیم کھلاڑی نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 10,461 گیندیں پھینکی، لیکن اس دوران کسی بھی بلے باز نے ان کی گیند پر ایک بھی چھکا نہیں لگایا۔نیل ہاک (Neil Hawke) آسٹریلیا کے میڈیم فاسٹ بولر تھے۔ انہوں نے 1963 سے 1968 تک 27 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 91 وکٹیں حاصل کیں۔ ہاک اپنے دور کے خطرناک گیند بازوں میں شامل تھے جن کا بہترین پرفارمنس ایک اننگز میں سات وکٹیں لے کر 105 رنز دینا تھا۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 6,974 گیندیں پھینکی، لیکن ان کی گیندوں پر بھی ایک چھکا نہیں لگا۔
دوسرے نمبر پر نیل ہاک (Neil Hawke) آسٹریلیا کے میڈیم فاسٹ بولر تھے۔ انہوں نے 1963 سے 1968 تک 27 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 91 وکٹیں حاصل کیں۔ ہاک اپنے دور کے خطرناک گیند بازوں میں شامل تھے جن کا بہترین پرفارمنس ایک اننگز میں سات وکٹیں لے کر 105 رنز دینا تھا۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 6,974 گیندیں پھینکی، لیکن ان کی گیندوں پر بھی ایک چھکا نہیں لگا۔
فہرست میں تیسرے نمبر پر پاکستانی آل رائونڈر مدثر نذ ر ہیں جو پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین تھے جو اپنی دھیمی بیٹنگ کیلئے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے 1976 سے 1989 تک پاکستان کے لیے انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ ’مین ود گولڈن آرم‘ کے نام سے مشہور اس کھلاڑی نے 76 ٹیسٹ میچز میں 4,114 رنز بنائے۔ ان کے نام 66 وکٹیں بھی درج ہیں۔ مدثر نذر نے ٹیسٹ میچز میں 5,967 گیندیں پھینکی، لیکن ان کی ایک گیند پر بھی چھکا نہیں لگا۔ ان کےعلاوہ محمود حسین نے پاکستان کیلئے 1952 سے 1962 تک 27 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 68 وکٹیں حاصل کیں،انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 5,910 گیندیں پھینکی۔ مدثر نظر کی طرح اس پاکستانی بولر کی گیندوں پر بھی ایک چھکا نہیں لگا۔
فہرست کےمطابق پانچویں نمبر پر موجود انگلینڈ کے ڈیرک پرنگل ایک آل راؤنڈر تھے جن کینیا میں پیدا ہوئےتھے۔ اس لمبے قد کے گیند باز نے 1982 سے 1993 تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلی، پرنگل نے 70 وکٹیں حاصل کیں اور ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر 95 رنز دینا بہترین کارکردگی تھی۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 5,287 گیندیں پھینکی اور ان کی گیند پر بھی کوئی بلے باز ایک بھی چھکا نہیں لگا سکا۔
یہ بھی پڑھیں ؛ مچل سٹارک کا بابر اعظم کی جرسی نمبر 56 پر دلچسپ تبصرہ












Leave a Reply