
( ویب ڈیسک )شائقین کرکٹ ایک ہی روز میں دو پاک بھارت ٹاکرے دیکھ سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق 15 فروری کو 2 پاک بھارت معرکے طے ہو گئے ہیں، مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے ساتھ ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز میں بھی پاکستان اور بھارت کا سامنا ہوگا۔
ایشین کرکٹ کونسل نے ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کا شیڈول جاری کردیا۔
???????????????? ???????? ???????????? ???????????????? ???????? ????????????????????’???? ???????????????????????????? ~ ???????????? ???????? ???????????????????????? ???????????????? ???????????? ???????????????? ????????????????????????????????????????
The #DPWorldWomensAsiaCupRisingStars2026 is set to bring bold performances, big moments and the future of Asian cricket to the forefront. pic.twitter.com/Vt4FgRy14A
— AsianCricketCouncil (@ACCMedia1) January 19, 2026
آٹھ ٹیموں پر مشتمل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ 13 سے 22 فروری تک تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں کھیلا جائے گا۔
اس کا مقصد براعظم سے ابھرتی ہوئی ٹیموں کو پلیٹ فارم کی فراہمی اور ایشیائی کرکٹ کے فیوچر اسٹارز کو متعارف کرانا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے ساتھ گروپ اے میں متحدہ عرب امارات اور نیپال شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں بنگلادیش، سری لنکا، ملائیشیا اور میزبان تھائی لینڈ کو شامل کیا گیا ہے۔
شائقین کی دلچسپی کے حامل پاک بھارت ویمنز میچ کو گروپ مرحلے کا سب سے نمایاں مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے، اس سے رائزنگ اسٹارز ٹورنامنٹ کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوگا۔
گرین شرٹس مہم کا آغاز 13 فروری کو نیپال کے خلاف کریں گی، گروپ مرحلے میں آخری مقابلہ 17 فروری کو یو اے ای سے ہوگا۔
Fixtures unveiled ️
Pakistan Women’s A are set to feature in the ACC Women’s Asia Cup Rising Stars 2026 next month #BackOurGirls | #AsiaCupRisingStars pic.twitter.com/37NQ6RwMui
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) January 19, 2026
دوسری جانب بھارت کا پہلا میچ متحدہ عرب امارات اور دوسرا میچ نیپال سے ہونا ہے۔
گروپ مرحلہ 18 فروری تک جاری رہے گا، اس کے بعد ہر گروپ کی ٹاپ 2 ٹیمیں 20 فروری کو ہونے والے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کرپائیں گی جبکہ فائنل 22 فروری کو کھیلا جائے گا۔
ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2026 کو نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور ایشیا بھر میں ویمنز کرکٹ کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے، کئی ٹیمیں اسے سینئر سطح پر کامیابی کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔












Leave a Reply