(24نیوز) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان سلطانز کی نیلامی کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے اور سرائیکی وسیب کی اس مقبول ٹیم کو حاصل کرنے کے لئے اب تک کوالیفائی کرنے والے ممکنہ خریدار بھی سامنے آ گئے ہیں۔
ملتان سلطانز کی نیلامی کم سے کم دو ارب روپے سے شروع ہونے کا امکان ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فرنچائز کی سالانہ ادائیگی زیادہ ہونے کی شکایت کرنے والے علی ترین بھی زیادہ کم از کم قیمت سے شروع ہونے والی نیلامی میں بولی لگانے کیلئے آ رہے ہیں۔
پی سی بی حکام کے نے آج بدھ کی شام اعلان کیا ہے کہ ملتان سلطانز کی مینیجمنٹ کے حقوق کی نیلامی بسنت فیسٹیول کے فوراً بعد پیر 9 فروری کو لاہور میں ہوگی۔
ملتان سلطانز کی ملکیت کے حقوق کے لیے کل 5 بڈرز مقابلہ کریں گے، جنہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی بڈ کمیٹی نے نیلامی کے عمل میں حصلہ لینے کے لئے کلئیر کیا ہے ۔ ی سی بی کو مقررہ وقت تک 6 پروپوزلز موصول ہوئے، جن کی تفصیلی اور شفاف جانچ کے بعد 5 بڈرز کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا، جو نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے 10 سالہ ملکیت کے معاہدے کی تجدید کرنے سے انکار کرتے ہوئے پی ایس ایل انتظامیہ پر بہت زیادہ پیسہ مانگنے کا الزام لگایا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ اتن یزیادہ ادائیگی کر کے ٹیم کو چلانا ممکن ہی نہیں۔ بعد میں پبلک فورمز پر پی ایس ایل برانڈ کو متنازعہ کرنے کی کوشش پر شو کاز نوٹس کا جواب نہ دینے اور پبلک فورم پر تنقید جاری رکھنے کے سبب پی ایس ایل نے علی ترین کی فرنچائز ختم کر دی تھی، باقی تمام ٹیموں کی مینیجمنٹ سابق مالکان نے ہی پی ایس ایل کی ایولیوئیشن کے مطابق قیمت ادا کر کے ری ٹین کر لی تھی۔

پانچ امیدواروں میں مقابلہ
پی ایس ایل کی نیلامی میں ملتان سلطانز کی فرنچائز کے حصول کے لیے جن پانچ کمپنیوں کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا ہے ان میں اہم ترین “والی ٹیک” اور “ایم نیکسٹ اینک” ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں گذشتہ ماہ حیدرآباد اور سیالکوٹ کے ناموں سے منسوب نئی ٹیموں کے حقوق خریدنے کے لئے ہونے والی نیلامیوں میں پیش پیش تھے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ حیدرآباد 175 کروڑ اور سیالکوٹ کی فرنچائزز کے حقوق 185 کروڑ روپے میں فروخت ہوئے تھے۔
دوسری دو طاقت ور کمپنیاں سی ڈی وینچر اور پارٹیکل ایگنائٹ ہیں۔ یہ دونوں پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی کوئی ٹیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: جے شاہ کیا ہے؟ آسٹریلین مصنف نے سوشل میڈیا پر پول کھول دیا
پانچواں امیداوار وہی علی ترین ہیں جنہوں نے پی ایس ایل کی جانب سے ویلئیویشن میں اضافہ سامنے آنے سے پہلے ہی ادائیگی زیادہ ہونے کی شکایت کرنا شروع کر دی تھی اور ملتان سلطانز کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے تھے۔
علی ترین کی ڈہرکی شوگر ملز نے ملتان سلطانز کو تو چھوڑ دیا تھا لیکن دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے لئے شامل ہونے کی اجازت مانگی تھی جو پی ایس ایل انتظامیہ نے دے دی تھی۔ ان دو نئی ٹیموں کی نیلامی میں بیٹھنے کی اجازت ملنے کے بعد علی ترین نیلامی میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ اب بھی انہین ملتان سلطانز کی نیلامی میں شامل ہونے کی ٹیکنیککل بنیاد پر اجازت تو مل گئی ہے لیکن ان کا ارادہ واضح نہیں۔ ملتان سلطانز کی نیلامی میں علی ترین آ تو رہے ہیں تاہم وہاں ان سے زیادہ ورتھ کے مالک لوگ بھی نیلامی میں آ رہے ہیں۔
نئے دور کا آغاز: سلمان نصیر کی امید
پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر کا کہنا ہے کہ ’ملتان سلطانز کی فرنچائز رائٹس میں غیر معمولی دلچسپی دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل تمام تکنیکی طور پر اہل بولی دہندگان کو مبارکباد دیتا ہے اور ان اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنھوں نے ٹینڈر کے پورے عمل کے دوران ہمارے ساتھ رابطہ رکھا۔‘
سلمان نصیر نے کہا، شائقین ایک اور سنسنی خیز نیلامی کے منتظر ہیں، جس کے بعد توجہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کی اہم پلیئر نیلامی کی جانب منتقل ہو جائے گی۔
‘آٹھ ٹیموں کے مالکان کی حتمی فہرست پی ایس ایل کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی۔‘
یہ بھی پڑھیئے: سات فروری کو ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کا میچ ہو پائے گا یا نہیں؟ ویدر فورکاسٹ اور ماہرین کی رائےکیاہے؟
علی ترین ڈہرکی شوگر ملز کے ذریعے نیلامی کے عمل میں شریک ہیں۔ ان کا کاروباری گروپ زراعت اور سٹریٹیجک سرمایہ کاری کے شعبوں میں سرگرم ہے اور کاروباری حلقوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ علی ترین کہتے ہیں کہ ’جنوبی پنجاب میرے دل کے قریب ہے، یہ میرا گھر ہے، اور اگر میں واپس آیا تو اسی شناخت کے ساتھ آؤں گا۔‘
اب منگل کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں علی ترین کا کہنا ہے کہ انھیں پی ایس ایل میں کی گئی نئی تبدیلیاں پسند آئی ہیں جن میں پلیئر آکشن، براہِ راست سائننگ، بہتر ریٹینشن اور ایمرجنگ رولز کے علاوہ ادائیگیوں کا شفاف نظام شامل ہے۔
والی ٹیک
یہ ایک ٹیکنالوجی پر مبنی میڈیا اور فِن ٹیک گروپ، جو اس سے قبل پی ایس ایل کے ڈیجیٹل رائٹس حاصل کر چکا ہے اور حال ہی میں لیگ کے بین الاقوامی نشریاتی حقوق بھی جیت چکا ہے۔
گذشتہ نیلامی کے دوران والی ٹیک نے پہلے مرحلے میں 1 ارب 11 کروڑ 50 لاکھ روپے اور بعد ازاں 1 ارب 23 کروڑ روپے کی بولی لگائی۔ تاہم دوسرے مرحلے میں کمپنی مزید پیش رفت نہ کر سکی۔
سی ڈی وینچر
یہ برطانوی اور پاکستانی شراکت داروں پر مشتمل ایک مشترکہ کمپنی ہے جو پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی فرنچائز نیلامی کے عمل میں حصہ لے رہی ہے۔
ایم نیکسٹ اینک
ٹیکنالوجی اور جدت (انوویشن) پر کام کرنے والی کمپنی، جو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے جدید حل فراہم کرتی ہے۔
ایم نیکسٹ اینک نے دوسرے مرحلے میں تین بولیاں لگائیں اور ان کی آخری پیشکش ایک ارب 76 کروڑ روپے تک جا پہنچی لیکن وہ بھی فرنچائز حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
ملتان سلطانز دوبارہ کیوں فروخت کی جا رہی ہے؟
ملتان سلطانز اور علی ترین کے درمیان فرنچائز معاہدہ 31 دسمبر کو ختم ہو ا تو پی ایس ایل کی مینیجمنٹ نے تمام فرنچائز مینیجمنٹ حاصل کرنے والوں کے ساتھ علی ترین سے بھی فرنچائز فیس 1.1 ارب روپے سے بڑھا کر 1.375 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم علی ترین نے اس پر ٹیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ علی ترین کی مینیجمنٹ میں ابتدا کرنے اور کئ یسال اسی مینیجمنٹ میں رہنے والی اس ٹیم کی آزادانہ ویلیوایشن میں قدر تقریباً 85 کروڑ روپے لگائی گئی تھی، جو اس وقت کی مجوزہ فرنچائز فیس سے بھی کم تھی۔ علی ترین نے ٹیم کی زیادہ قیمت دینے سے انکار کیا لیکن دوسرے تمام لوگوں نے اپنی ٹیموں کی نئی ویلیوایشن کے مطابق ادائیگیوں کے معاہدے کر لئے۔ دو نئی ٹیمیں بھی خاصی زیادہ قیمت پر بکین اور پی ایس ایل الیون ی نشریات کے رائتس بھی کافی زیادہ قیمت کر فروخت ہوئے ہیں۔ برانڈ کی مجموعی ویلیو ہر طرح بڑھ گئی ہے۔ اب ملتان سلطانز کی نئی قیمت بھی دو ارب روپے سے آغاز ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: بھارت میں تین بہنوں نے عمارت سے کود کر خودکشی کر لی
ابتدا میں پی سی بی نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ٹیم کو ایک سیزن کے لیے خود چلایا جائے گا کیونکہ اسی دوران دو نئی فرنچائزز کی فروخت کا عمل جاری تھا۔
تاہم حیدآباد اور سیالکوٹ کی فرنچائزز کی نیلامی میں غیر معمولی دلچسپی اور توقع سے کہیں زیادہ بولیاں موصول ہونے کے بعد پی سی بی نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی۔
دونوں فرنچائزز بالترتیب ایک ارب 75 کروڑ اور ایک ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں، جو نہ صرف بورڈ کے اپنے تخمینوں بلکہ مارکیٹ کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔
علی ترین نے ملتان سلطانز کس قیمت پر خریدی تھی
علی ترین (اور ان کے کنسورشیم) نے پہلی مرتبہ ملتان سلطانز کی فرنچائز 6.3 ملین ڈالر سالانہ (تقریباً 105 سے 108 کروڑ پاکستانی روپے سالانہ) کی قیمت پر خریدی تھی۔
اس حوالے سے تازہ ترین اور اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
2018 میں خریداری: جب Schön Properties سے معاہدہ ختم ہوا تو علی ترین کے گروپ نے 5.21 ملین ڈالر کی بنیادی قیمت (Reserve Price) سے زائد کی بولی دے کر فرنچائز کے حقوق حاصل کیے تھے۔
نئی قیمت کا تخمینہ: حالیہ اطلاعات کے مطابق علی ترین نے دوبارہ فرنچائز خریدنے کے لیے دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔ اس بار ٹیم کی قیمت 200 کروڑ روپے (2 ارب روپے) سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈور پتنگیں بھی دو، رشوت بھی دو، تمہاری پتنگوں کا بار کوڈ نہیں ہے، شکاری پولیس اہلکار خودشکارہوگئے












Leave a Reply