آئی سی سی کی ٹیموں کے سفر پر تاخیر کی وضاحت



(ویب ڈیسک )انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی بعض ٹیموں کے کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کی وطن واپسی میں تاخیر مشرق وسطیٰ میں جاری بحران اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی فضائی سفر میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ہوئی ہے۔

آئی سی سی کے جاری بیان کے مطابق خطے میں فضائی حدود کی بندش، میزائل وارننگز، پروازوں کے راستوں میں تبدیلی اور کمرشل و چارٹر پروازوں کی اچانک منسوخی یا ری شیڈولنگ کے باعث سفری انتظامات غیر معمولی طور پر پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل اس کے کنٹرول سے باہر ہیں جس کے باعث ٹیموں کی واپسی میں تاخیر ہوئی۔

 یہ بھی پڑھیں:امریکی سیاست میں نیا تنازع،ٹرمپ مزید مشکلات کا شکار

ایک بیان میں کہا گیا کہ آئی سی سی متاثرہ ٹیموں کی جلد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ایئرلائنز، چارٹر آپریٹرز، ایئرپورٹ حکام اور مختلف ممالک کے سرکاری اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

آئی سی سی کے مطابق موجودہ انتظامات کے تحت جنوبی افریقہ کا دستہ آج رات وطن واپسی کا سفر شروع کرے گا اور توقع ہے کہ آئندہ 36 گھنٹوں کے اندر تمام ارکان روانہ ہو جائیں گے۔ اسی طرح ویسٹ انڈیز کے نو ارکان پہلے ہی کیریبین کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ باقی 16 ارکان آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت سے روانہ ہونے والی پروازوں میں سوار ہوں گے۔

آئی سی سی نے واضح کیا کہ ان فیصلوں کا مقصد صرف کھلاڑیوں اور دیگر افراد کی حفاظت، سفری امکانات اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے ایسے تاثرات درست نہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ سفری انتظامات میں کسی قسم کی ترجیح یا امتیاز برتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:پشاور کے  قبرستان میں عجیب واقعہ،حقیقت نے سب کو چونکا دیا

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے لیے کیے گئے سفری انتظامات کا انگلینڈ یا کسی اور ٹیم کے لیے پہلے کیے گئے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہر ٹیم کے سفر کے حالات اور راستے مختلف تھے۔

آئی سی سی نے کہا کہ اس وقت تک کسی کو روانہ نہیں کیا جائے گا جب تک مکمل طور پر محفوظ سفری انتظامات یقینی نہ بنا لیے جائیں۔
 





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *