فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری ہے۔ اب تک افغان طالبان کے 684 کارندے ہلاک کئے جا چکے۔ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے 70 ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کئے گئے.وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیئے۔ بتایا کہ آپریشن غضب للحق میں اب تک 684 دہشت گرد ہلاک اور 912 زخمی ہو چکے ہیں۔ افغان طالبان کی 252 چیک پوسٹیں حملوں میں تباہ ہوئیں جبکہ 44 چوکیاں قبضے میں لے کر تباہ کردی گئیں۔ آپریشن غضب للحق کے دوران دشمن کے 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اورتوپیں بھی تباہ کی گئی ہیں۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغانستان کےاندر دہشت گردوں کے 70 ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ۔ پاکستانی افواج نے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
قندھار میں ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی تباہ کردی گئی۔ ایک سرنگ بھی تباہ کی گئی جس میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے تکنیکی آلات رکھے ہوئے تھے۔ چترال سیکٹر میں افغانستان کی بادینی پوسٹ پر قائم دہشت گردوں کا جمپ آف پوائنٹ بھی تباہ کر دیا گیا۔ عطا تارڑ کے مطابق کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ افغان رجیم اور میڈیا کا پروپیگنڈا سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔













Leave a Reply