کراچی میں ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسٰی زادے نےکہا ہےکہ پاکستانی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھلی ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کراچی میں ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسٰی زادے نےکہا کہ خام تیل یا گیس لانے والے جہاز حکومت ایران سے رابطہ کرکے آبنائے ہرمز سےگزر سکتےہیں۔
ایرانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت کئی دیگرممالک کےجہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سےگزرنےکی اجازت ہے۔
ایرانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز صرف امریکا، اسرائیل اور ان کےاتحادیوں کے لیے بند ہے۔
ایرانی قونصل جنرل نےکہا کہ جارحیت میں ملوث ممالک کےعلاوہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کے لیےکھلی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایران کے ساحل کے قریب رہ کر نکلنے والا تازہ ترین جہاز بن گیا ہے۔
امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق پاکستانی پرچم بردار جہاز “کراچی” اتوار کے روز ایرانی جزائر لارک اور قشم کے درمیان ایک تنگ راستے سے گزرا، جس کے بعد وہ ساحل کے ساتھ ساتھ خلیج عمان کی جانب بڑھا، پاکستان کی جانب رواں دواں بحری جہاز پر 8 کروڑ لیٹر سے زائد تیل ہے۔
پاکستانی ٹینکر ایرانی ساحل کے قریب سےگزر کر محفوظ راستےکی علامت بن گیا ہے، ایران کا غیر رسمی میرین ٹریفک کنٹرول نظام بھی سامنے آیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستانی ٹینکر کا آبنائے ہرمز سے گزرنا ایران کے منظور شدہ راستے کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے پتا چلتا ہےکہ جہازوں کو گزرنےکے لیے ایرانی منظوری لازمی ہے، بھارت اور ترکیے سمیت کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہ داری مانگ لی ہے، بیمہ کمپنیاں اور بینک ایرانی راستے پر بڑھتے خطرات سے پریشان ہیں ۔













Leave a Reply