سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دے دی اور کہا بانی کی جیل میں حالت زار سے متعلق تحریری رپورٹ دیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے انہیں فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کر دیا۔عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عدالتی نمائندہ اور کمیشن کے طور پر اڈیالہ جیل جانے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودہ حالت، دستیاب سہولیات اور لیونگ کنڈیشن سے متعلق تفصیلی تحریری رپورٹ جمع کرائیں۔
چیف جسٹس نے واضح ہدایت دی کہ سلمان صفدر کو جیل کے باہر انتظار نہ کروایا جائے اور ملاقات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آنی چاہیے۔ اگر کسی مسئلے کا سامنا ہو تو چیف جسٹس کے ذاتی اسٹاف افسر سے فوری رابطہ کیا جائے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ملاقات کا وقت فراہم کیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے 24 اگست 2023 کے حکم پر بھی عمل ہونا چاہیے، جو عمران خان کو جیل میں سہولیات فراہم کرنے سے متعلق ہے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 5 اگست سے 18 اگست 2023 تک کی رپورٹ پیش کی، جو اٹک جیل میں قید کے دوران کی تھی، جس پر عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی بانی پی ٹی آئی کی موجودہ حالت سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آنکھ کے معائنے کے بعد عمران خان کی صحت سے متعلق کچھ خدشات ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ لیونگ کنڈیشن سے متعلق رپورٹ چیمبر میں جمع کرائی جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدالت رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پرسوں کیس پر فیصلہ کرے گی اور عدالت کی مدد کی جائے تاکہ کیس کا بروقت فیصلہ ممکن ہو۔
سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے کی تاہم چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بینچ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ٹرائل پر دائر درخواستوں کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔













Leave a Reply