تحریک انصاف کے ہم خیال گروپ سے تعلق رکھنے والے اہم رہنماؤں نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد بالخصوص گلگت بلتستان کی سیاست میں نئی صف بندی سامنے آئی ہے۔ گلگت بلتستان کے سابق گورنر جلال حسین مقپون, سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان اور سابق قائد حزب اختلاف شفیع خان نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کی۔
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی رہائشگاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران گلگت بلتستان کے سابق گورنر جلال حسین مقپون, سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان اور سابق قائد حزب اختلاف شفیع خان نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کی۔
اس موقع پر سابق وزرا فتح اللہ خان، شمس الحق، حاجی شاہ بیگ اور دلشاد بانو سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے بھی پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ گلگت بلتستان سے خان اکبر خان، مولانا سلطان رئیس اور ایمان شاہ بھی آئی پی پی کا حصہ بن گئے۔
تقریب میں وزیر مملکت اور آئی پی پی کے سینئر رہنما عون چوہدری, پارلیمانی سیکرٹری گل اصغر بگھور، آئی پی پی پنجاب کے صدر رانا نذیر احمد خان اور جنرل سیکرٹری شعیب صدیقی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
علیم خان کا مؤقف
سربراہ آئی پی پی عبدالعلیم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست ان کے لیے نئی نہیں ہے اور گلگت بلتستان میں پارٹی بھرپور انتخابی مہم چلائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے پاس وافر وسائل موجود ہیں اور سیاحت کے شعبے سے اربوں ڈالر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا پہلا ہدف گلگت بلتستان کے عوام کو ٹیکسوں سے نجات دلانا ہوگا۔
آئینی حیثیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اپنا منشور رکھے گی اور عوامی حمایت کی صورت میں کامیابی حاصل کرے گی۔













Leave a Reply