سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی Imran Khan کو جیل میں دستیاب سہولیات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جیل میں سیکیورٹی اور فراہم کردہ خوراک پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ سیل میں ہوا اور روشنی کے انتظام کو بھی تسلی بخش قرار دیا ہے۔
صفائی اور بنیادی سہولیات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہیں کپڑے دھونے اور صفائی کے لیے ایک مشقتی فراہم کیا گیا ہے جو واش روم اور سیل کی صفائی کا ذمہ دار ہے۔ صفائی کے انتظامات پر بھی اطمینان ظاہر کیا گیا۔
سردیوں میں چھوٹا ہیٹر اور بلور فراہم کیا جاتا ہے جبکہ گرم پانی ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔ گرمیوں میں روم کولر دیا جاتا ہے، تاہم انہوں نے مچھر اور کیڑوں کی موجودگی اور دو سے تین مرتبہ فوڈ پوائزننگ کی شکایت بھی کی۔
نگرانی اور سیکیورٹی
رپورٹ کے مطابق سیل کے اطراف تقریباً 10 کیمرے نصب ہیں، تاہم کمرے کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں۔ عمران خان نے کیمروں پر اعتراض نہیں کیا اور کہا کہ یہ ان کی حفاظت کے لیے ہیں۔ سیل کے قریب 30×12 فٹ کا گرین ایریا بھی موجود ہے جہاں وہ دھوپ لے سکتے ہیں۔
خوراک اور روزمرہ معمول
انہوں نے بتایا کہ ناشتے میں کافی، دلیہ اور کھجوریں دی جاتی ہیں اور ہفتہ وار مینیو کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ ہفتے میں دو دن چکن، دو دن گوشت اور دو دن دال یا ہلکی غذا دی جاتی ہے جبکہ بوتل بند پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
رات کو وہ مکمل کھانے کے بجائے پھل، دودھ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں۔ سیل میں چھری، کانٹے اور برتن رکھنے کی اجازت نہیں۔
روزانہ قرآن پاک کی تلاوت اور محدود ورزش ان کے معمول کا حصہ ہے۔ ورزش کے لیے ایکسرسائز مشین اور 9 کلوگرام وزنی پتھر دستیاب ہیں۔ سیل میں تقریباً 100 کتابیں موجود تھیں اور 32 انچ کا ٹی وی بھی فراہم کیا گیا جو فعال نہیں تھا۔
ملاقاتیں اور رابطہ
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے وکلا سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی جبکہ اہل خانہ سے ملاقات میں بھی تعطل رہا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی کے بعد اہلیہ سے ہفتے میں ایک بار 30 منٹ کی ملاقات کی اجازت دی گئی۔ 2025 میں بیٹوں سے دو مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔
طبی مسائل
عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر 6/6 تھی مگر بعد ازاں دھندلا دکھائی دینے لگا اور دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 15 فیصد رہ گئی۔ انہیں بلڈ کلاٹ سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ تین ماہ تک آنکھوں کے قطروں سے علاج جاری رہا۔ انہوں نے باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ اور ماہر امراض چشم سے معائنے کی درخواست کی۔
عدالتی کارروائی
سماعت کے دوران Supreme Court of Pakistan نے قرار دیا کہ عمران خان ریاستی تحویل میں ہیں اور انہیں دیگر قیدیوں کی طرح مساوی طبی سہولیات ملنی چاہئیں، تاہم کوئی غیر معمولی رعایت نہیں دی جائے گی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ یہ اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں۔













Leave a Reply