(ویب ڈیسک) اب سابق کرکٹر بھی بتا رہے ہیں کہ میچ سے پہلے بھارتی ٹیم پر پاکستانی اسپنر عثمان طارق کا خوف طاری ہے۔
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 15 فروری کو میچ ہو رہا ہے۔ میچ سے پہلے بھارت میں پاکستانی سپنر عثمان طارق کے خوفناک امپیکٹ کے چرچے ہو رہے ہیں۔ بعض لوگ ان کے سوپرب باؤلنگ ایکشن کے حوالے سے افواہوں کو لے کر اپنے بیٹرز کے خوف کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
ایک پاکستانی نیوز چینل کے شو میں عثمان طارق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرڈ ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے کہا کہ ابھی میچ ہوا نہیں کہ عثمان طارق کو لے کر اتنا شور مچا دیا ہے۔ انہیں میچ سے پہلے عثمان طارق کا خوف ہے۔
شعیب ملک نے کہا کہ جب امپائر نے کہہ دیا کہ عثمان طارق کا ایکشن درست ہے، تو بات ہی ختم ہو جانا چاہئے۔ یہ شور اس لیے ہے کہ بیٹرعثمان طارق کو کھیل نہیں پا رہے ہیں۔ جب بھی کوئی ایسی صورتحال ہوتی ہے کہ کسی بولر کو کھیل نہیں پاتے تو اس میں کیڑے نکالنے کی کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں۔
شعیب ملک نے مزید کہا کہ آئی سی سی کے قانون کے مطابق اگر بولر کا ہاتھ بولنگ کراتے ہوئے 15 ڈگری کے اندر ہے تو چاہے وہ رکے یا کچھ بھی کرے، وہ ایکشن قانونی ہے۔
نجیب الحسنین نے بھارتی سپنر روی کا عثمان طارق کے حق میں کیا گیا ٹویٹ بھی پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا، جب ایک بیٹر کو امپائر یا بولر کو آگاہ کیے بغیر سوئچ ہٹ یا ریورس شاٹ کھیلنے کی آزادی حاصل ہے، تو پابندیاں صرف بولر پر کیوں عائد کی جاتی ہیں؟
عثمان طارق کا ایکشن دو کمیٹیوں نے اینالائز کیا، ٹھیک قرار دیا
عثمان طارق کی جادو جیسی بالز کو سمجھنے میں ناکام ہو کر پِٹ جانے والے کھلاڑیوں اور ان کے سرپرست آفیشلز نے پاکستان کے کئی دوسرے جینئیس باؤلرز کی طرح عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن کو لے کر انہیں “غیر قانونی باؤلر” قرار دلوانے کی بچگانہ کوششیں کیں لیکن عثمان طارق “دوسرا” سے بھی زیادہ خطرناک بالز کرنے کے لئے کوئی غیر قانونی حرکت کرتے ہی نہیں تو ان کو “غیر قانونی” قرار دینے کی کوششیں ناکام ہی ہونا تھیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن کے متعلق شکایات کو لے کر دو مرتبہ کمیٹیاں بنائیں جنہوں نے عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن کا گہرا سائنٹفک تجزیہ کیا اور دونوں کمیٹیوں نے باؤلنگ ایکشن کو لیگل قرار دیا۔
عثمان طارق کے خوف کی اصل وجہ
عثمان طارق کا خوف بے وجہ نہیں اس کی باؤلنگ واقعی ڈرا دینے والی ہے۔ گرین شرٹس کے کیپٹن نے اسے ٹیم میں لیا ہی اس لئے کہ مخالف گری نشرٹس کے سامنے آئیں تو اس سے پہلے والی رات انہیں عثمان طارق خوابوں میں آ کر ڈراتا رہے۔

کیپٹن سلمان آغا نے بس ایک ہی میچ میں عثمان طارق کو شامل کیا اور اس میچ میں اس کے اوورز نے مخالف ٹیم کی بیٹنگ لائن کا تختہ کر دیا۔ عثمان طارق نے تین وکٹیں لیں۔ وکٹین تو باؤلرز کو مل ہی جاتی ہپیں۔ لیکن اس میچ میں عثمان طارق نے وکٹیں گرانے سے زیادہ مخالفوں اور دیکھنے والے مخالفوں کے دلوں پر خوف ہی بجلیاں گرائیں۔
یہ بھی پڑھیں: خطرناک ترین گرین شرٹ عثمان طارق کے آج میچ میں اوورز کا جائزہ، مخالفوں کی نیندیں حرام












Leave a Reply