
(ویب ڈیسک) معروف کرکٹرز کے ساتھ اربوں روپے کے فراڈ کی افواہیں پھیلنے کے بعد کرکٹرز اور ان کی انویسٹمنٹ کو ہینڈل کرنے والی کمپنی کے کرتا دھرتا دونوں کا مؤقف سامنے آ گیا۔ اس معاملہ میں پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی نے بھی کھلاڑیوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے انہیں مکمل مدد اور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
ایک نیوز آؤٹ لیٹ کی جانب سے “خبر” قرار دے کر پھیلائی گئی مبینہ مالی فراڈ کی افواہیں بظاہر قیاس آرائیوں پر مبنی نکلیں۔ انویسٹمنٹ کمپنی کے مالک نے یقین دلایا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی پائی پائی ادا کرنے کے پابند ہیں۔ صرف کچھ ادائیگیوں میں تاخیر ہوئی جس سے بات کا بتنگڑ بنا دیا گیا۔
پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ کی “خبر” سوشل میڈیا میں تیزی سے پھیلنے کے کے بعد کھلاڑیوں سے رقوم لے کے ان کی جانب سے انویسٹمنٹ کرنے والی کمپنی کے مالک کا ردعمل سامنے آگیا۔
قومی کرکٹرز کی انویسٹمنٹ کرنے والی کمپنی کے مالک نے ایک نیوز آؤٹ لیٹ کے نمائندہ کو بتایا کہ سابق اور موجودہ کھلاڑیوں نے 2023 سے میرے ساتھ انویسٹمنٹ کر رکھی ہے۔ میرا کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل تحریری معاہدہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سال ختم ہو گا تو دنیا میں سب سے زیادہ سمارٹ کوئی انسان نہیں، آرٹیفیشل انٹیلیجنس بوٹ ہوگا
کمپنی کے مالک نے بتایا کہ تمام کھلاڑیوں کے پاس میری کمپنی کے گارنٹی چیک موجود ہیں، میں فراڈ جیسے الزامات کی تردید کرتا ہوں۔ میں کبھی امریکہ نہیں گیا اور نہ ہی میرے پاس امریکی ویزا ہے۔ میں دبئی میں موجود ہوں اوراپنے ساتھ انویسٹمنٹ کرنے والے کھلاڑیو ں سے رابطے میں ہوں۔ میری کمپنی دبئی میں ہی کام کرتی ہے اور ہم ٹریڈنگ کا کام کرتے ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ چند دن میں ادائیگیاں کلیئر کردی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان میں میری فیملی موجود ہے۔ کھلاڑیوں کے علاوہ میرے پاس مزید انویسٹرز بھی موجود ہیں، ہم باقاعدگی سے ادائیگیاں کرتے ہیں۔
افواہ کی بنیاد کیا ہے
ایک نیوز آؤٹ لیٹ نے “وضاحت” کی کہ ان کو یہ “خبر” آئی تھی کہ” پاکستانی کرکٹرز کو منافع کی لالچ میں چونا لگ گیا اورجعلساز نے کروڑوں ہڑپ لیے۔”
نیوز آؤٹ لیت نے خود اپنی افواہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے “ذرائع” کو ذمہ دار قرار دے دیا اور بتایا کہ “ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کےسابق اور موجودہ کرکٹرز کےساتھ مبینہ فراڈ ہوا ہے.”، “کرکٹرز نے مبینہ فراڈ کی کسی پلیٹ فارم پرباضابطہ شکایت درج نہیں کرائی.”، “کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سےبھی مسئلہ حل کرانےکے لیے رابطہ نہیں کیا۔”
اس “ذرائع” کنے فراڈ کی افواہ کو “خبر” کی حیثیت سے پیش کرنے کے لئے ادھورا سچ یہ بتایا کہ سابق کپتانوں اور موجودہ کھلاڑیوں نے ان۲وسیتمنٹ کی تھی۔ اور یہ الزام لگایا کہ انویسٹمنت “غیر معمولی منافع” کی وجہ سے کی، نیوز آؤٹ لیت کے الفاظ میں “سابق کپتان کی دیکھا دیکھی میں کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی، موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کےنام بھی شامل ہیں، بعض کرکٹرز نے براہ راست بھی کاروباری شخص کےساتھ سرمایہ کاری کی،کرکٹرز نےاپنےکروڑوں روپےغیر معمولی منافع کےچکرمیں مبینہ طور پردے دیے۔”
جن کے ساتھ فراڈ کی “خبر” پھیلائی گئی، وہ کیا کہتے ہیں؟
فراڈ سے متعلق “خبر” پھیلانے والوں نے غالباً انویسٹمنٹ کرنے والے کھلاڑیوں سے کچھ پوچھا ہی نہیں تھا، اب جب یہ افواہ پھیلی تو ان کھلاڑیوں نے نیوز آؤٹ لیٹ کو بتایا ہے کہ ہمارے ساتھ تو کوئی فراڈ نہیں ہوا۔
پاکستانی کھلاڑیوں نے بتایا کہ ہم نے کمپنی میں انویسٹمنٹ کی تھی، ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا۔کمپنی ہم سے رابطے میں ہے، مارچ تک تمام پیمنٹ کلیئر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، صرف 2 چیک باؤنس ہوئے ہیں۔
کھلاڑیوں نےبتایا کہ اس افواہ سے پریشان ہو کر چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے بھی رابطہ کیا ہے۔ پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی نے اپنے کھلاڑیوں کو یقین دلایا کہ ان کے مفادات کے تحفظ کے لئے وہ موجود ہیں۔ کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے کہا کہ ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر کچھ ہوا تو بتادیں گے۔












Leave a Reply