صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک بار پھر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست میں مشکلات اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں، اگر کوئی انہیں برداشت نہیں کر سکتا تو اسے کوئی اور آسان راستہ اختیار کر لینا چاہیے۔
وہاڑی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ کسانوں کو سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے اور زرعی شعبے کی مضبوطی ہی پاکستان کی معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں وسائل اور نعمتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف تسلسل، درست حکمت عملی اور مؤثر عملدرآمد کی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو بااختیار بنانے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے پر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کا پائیدار حل زراعت کے فروغ میں مضمر ہے۔
انہوں نے عدالتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی تنخواہوں میں اضافہ ان کے دور میں کیا گیا اور ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ حکمرانی کے لیے سیاسی بلوغت اور لچک ضروری ہے، جبکہ انتہا پسندانہ رویے ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کا ادراک ہے اور حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں، تاہم مکمل استحکام میں وقت لگے گا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ بغیر نام لیے انہوں نے کہا کہ ملک اگر ایک سال بھی رک جائے تو کئی سال پیچھے چلا جاتا ہے اور ماضی میں ایسا ہو چکا ہے۔
صدر مملکت نے اپنے دورِ اسیری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 14 سال جیل کاٹی اور مشکلات کو برداشت کیا، سیاست میں صبر اور حوصلہ بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاست کا انتخاب کیا ہے تو اس کے تمام تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا ہوگی۔













Leave a Reply