پاکستان کےسیمی فائنل تک پہنچنےکے امکانات روشن، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ آج ہوگا۔
قومی ٹیم کوفائنل فورمیں جگہ بنانے کےلیے بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا، پاکستان کو سری لنکا کو 65 رنز سے ہرانا ہوگا،سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کی تو ہدف 13 اوورز میں حاصل کرنا ہوگا۔
گروپ مرحلے کے اختتامی مرحلے میں ایک بار پھر رن ریٹ کے پیچیدہ حساب کتاب نے صورتحال کو سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
یہ فیصلہ کن میچ آج سری لنکا کے پالے کیلے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ 1.390 ہے جبکہ پاکستان کا منفی 0.461 ہے۔
ٹورنامنٹ میں اب تک پاکستان کی مڈل اوورز میں محتاط حکمت عملی تنقید کی زد میں رہی ہے، بابر اعظم کی جگہ اور سٹرائیک ریٹ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
جبکہ کپتان سلمان آغا بھی بیٹنگ اور قیادت دونوں شعبوں میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں، اگر پاکستان معمولی انداز میں باہر ہوا تو قیادت میں تبدیلی کی بازگشت بھی سنائی دے سکتی ہے۔
دوسری جانب سری لنکا پہلے ہی سپر ایٹ مرحلے سے باہر ہو چکا ہے تاہم وہ اعزاز کی خاطر کھیلتے ہوئے پاکستان کے راستے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
نوجوان سپنر دونیتھ ویلالاگے پاکستانی ٹاپ آرڈر کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں کسی بڑی ٹیم کے خلاف شاذ ہی اتنے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی ہے تاہم آئی سی سی ایونٹس میں غیر متوقع کارکردگی پاکستان کی پہچان رہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا گرین شرٹس دباؤ میں تاریخ رقم کر پاتے ہیں یا نہیں۔
یہ مقابلہ پالے کیلے میں اسی وکٹ پر کھیلا جائے گا جہاں انگلینڈ اور پاکستان کا میچ ہوا تھا، اس پچ پر فاسٹ بولرز کو خاصی مدد ملی تھی اور ابتدائی اوورز میں گیند میں ہلکی سی موومنٹ بھی دیکھی گئی تھی۔
کینڈی میں گزشتہ ہفتے موسم خشک رہا ہے اور امکان ہے کہ اختتامِ ہفتہ تک بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی جس کے باعث پچ خشک رہنے اور ابتدا میں رفتار ساز بولرز کو معاونت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان کی متوقع ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان آغا (کپتان)، بابر اعظم یا خواجہ نافع، فخر زمان، شاداب خان، عثمان خان (وکٹ کیپر)، محمد نواز یا فہیم اشرف، شاہین آفریدی، سلمان مرزا یا نسیم شاہ اور عثمان طارق شامل ہو سکتے ہیں۔













Leave a Reply