
(ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی میں اختلافات کی اندرونی کہانی منظرعام پر آگئی ہے، ذرائع کے مطابق سابق رکنِ انتخابی کمیٹی علیم ڈار کے استعفے کے پیچھے متعدد اہم عوامل کارفرما تھے۔
اطلاعات کے مطابق قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو سلیکشن کے معاملات میں غیر معمولی اختیارات حاصل تھے، جس پر کمیٹی کے بعض ارکان کو تحفظات تھے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رکن کمیٹی عاقب جاوید اکثر ہیڈ کوچ کے مؤقف کی تائید کرتے رہے اور کسی معاملے پر کھل کر اختلاف سامنے نہیں آیا، جبکہ علیم ڈار مبینہ طور پر اس صورتحال پر ناخوش تھے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی کپ اسکواڈ کے انتخاب پر بھی اختلافات سامنے آئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ علیم ڈار بابر اعظم، شاداب خان اور عثمان خان کی شمولیت کے حوالے سے مختلف رائے رکھتے تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ ٹیم کا انتخاب حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا کے جزیرےسماٹرا میں 6.1 شدت کا زلزلہ
مزید بتایا گیا ہے کہ انتخابی کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔
ذرائع کے مطابق علیم ڈار نے محمد رضوان کو عالمی کپ میں نمبر چھ پر کھلانے کی تجویز بھی دی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر بعض کھلاڑیوں کو حالیہ کارکردگی کے بغیر موقع دیا جا سکتا ہے تو دیگر کھلاڑیوں کو بھی مساوی بنیادوں پر موقع ملنا چاہیے۔
تاہم ان تمام دعوؤں کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری کیا گیا ہے۔












Leave a Reply