افغانستان سے توقع ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور کرے: وزارت خارجہ


پاکستان کی وزارت خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے صرف یہ توقع ہے کہ وہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرے اور اپنی سرزمین دہشتگرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

سینیٹ اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان سے متعلق ایک تحریری جواب جمع کروایا گیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پاکستان کا مؤقف

وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان بطور پڑوسی ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم تنظیمیں جیسے

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)

پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، اس لیے افغانستان کو ان کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے۔

دہشتگردی کے اعداد و شمار

وزارت خارجہ کے مطابق اگست 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان سرزمین سے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان سے 5300 دہشتگرد حملے ہوئے جن کے نتیجے میں 1200 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پاکستان کا پیغام

تحریری جواب میں کہا گیا کہ پاکستان امن اور سفارتکاری کا حامی ہے اور خطے میں مزید کشیدگی نہیں چاہتا۔

پاکستان افغان حکام کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے کیونکہ مذاکرات ہی درست راستہ ہیں، نہ کہ تنہائی۔

وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 


install suchtv android app on google app store

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *