ٹریوس ہیڈ  نے منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا 



( ویب ڈیسک )آسٹریلوی کرکٹر ٹریوس ہیڈ نے اپنی شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 26-2025 ایشز سیریز کے 5ویں اور آخری ٹیسٹ میں تاریخ رقم کر دی۔

سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف ایک یادگار سنچری اسکور کر کے اپنا نام آسٹریلوی کرکٹ لیجنڈز کی فہرست میں شامل کروا لیا۔

میچ کے تیسرے دن جارح مزاج بائیں ہاتھ کے بلے باز ٹریوس ہیڈ نے اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی 12ویں سنچری مکمل کی، جس سے حالیہ برسوں میں بطور ریڈ بال بلے باز ان کی غیر معمولی اہمیت مزید اجاگر ہو گئی۔

یہ سنچری انہوں نے محض 105 گیندوں پر اسکور کی، جو دباؤ کے لمحات میں بھی کھیل پر حاوی رہنے کی ان کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔

یہ جاری ایشز سیریز میں ان کی تیسری سنچری تھی، جو پورے ٹورنامنٹ میں ان کے تسلسل اور شاندار فارم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سنچری کی خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ان کی پہلی ٹیسٹ سینچری تھی۔

 اس اننگز کے ساتھ ٹریوس ہیڈ نے ایک نایاب اعزاز بھی حاصل کیا، وہ آسٹریلیا کے 7 مختلف میدانوں میں ٹیسٹ سینچریاں اسکور کرنے والے دنیا کے صرف 5ویں کرکٹر بن گئے۔

اس منفرد فہرست میں سابق کپتان اسٹیو وا، اور عظیم اوپنرز جسٹن لینگر، میتھیو ہیڈن اور ڈیوڈ وارنر شامل ہیں۔

 اکتوبر 2018 میں دبئی میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے ٹریوس ہیڈ اس وقت اپنا 65واں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔

ہوم گراؤنڈز پر ان کی کارکردگی غیر معمولی رہی ہے، خاص طور پر ایڈیلیڈ اوول میں جہاں انہوں نے اپنی آخری 4 اننگز میں 4 سنچریاں اسکور کیں۔

اس کے علاوہ دی گابا میں 2 سنچریاں جبکہ ایم سی جی، آپٹس اسٹیڈیم، بیلریو اوول، منوکا اوول اور اب ایس سی جی میں بھی وہ سنچری بنا چکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا سے باہر ان کی واحد ٹیسٹ سنچری 2023 کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل میں آئی۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ کی ایشز سیریز میں پہلی کامیابی، آسٹریلیا کو 3 وکٹوں سے شکست

جہاں اوول کے تاریخی میدان میں بھارت کے خلاف انہوں نے پہلی اننگز میں 174 گیندوں پر شاندار 163 رنز بنائے، جو آسٹریلیا کی ٹائٹل جیت میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

ریکارڈز ٹوٹتے جا رہے ہیں اور اعتماد عروج پر ہے اور ٹریوس ہیڈ کی ایشز میں شاندار کارکردگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے ڈھانچے میں ایک نہایت اہم ستون کیوں سمجھے جاتے ہیں۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *