
(ویب ڈیسک)انگلینڈ کے خلاف ایشز جیت میں آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے ٹیسٹ کرکٹ میں بطور کپتان ایک خاص کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کے بعد بطور کپتان ٹیسٹ میچز میں 150 وکٹیں لینے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔اس سے پہلے یہ اعزاز پاکستان کے عمران خان کو حاصل تھا۔
میڈیا رپورٹ کےمطابق آسٹریلیوی کپتان پیٹ کمنز نے آسٹریلیا کی قیادت کرتے ہوئے 2025-26 ایشز سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف ایڈیلیڈ اوول میں 17 سے 21 دسمبر کے درمیان کھیلے گئے میچ میں ٹیم کو 82 رنز سے جیت دلائی۔ اس ٹیسٹ میچ میں کمنز نے پہلی اننگز میں3 اور دوسری اننگز میں بھی3 انگلش بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔ ایشز کے اس ٹیسٹ میں کمنز کی 6وکٹوں کی بدولت بطور کپتان انکی ٹیسٹ وکٹوں کی تعداد 151 ہو گئی ہے۔پیٹ کمنز اب عمران خان کے بعد دنیا کے دوسرے کپتان ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں کم از کم 150 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اب تک آسٹریلیا کے لیے بطور کپتان 38 ٹیسٹ میچوں میں 151 وکٹیں لی ہیں، جبکہ عمران خان نے پاکستان کیلئے کپتان کی حیثیت سے 48 ٹیسٹ میچوں میں 187 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
واضح رہےکہ مجموعی طور پر کرکٹ کی تاریخ میں 10 کپتان ایسے ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 100 سے زیادہ بلے بازوں کو آؤٹ کیا ہے، لیکن 150 سے زیادہ وکٹیں لینے والے صرف عمران خان اور پیٹ کمنز ہی ہیں۔ آسٹریلیا کے کپتان کے طور پر کمنز کی 150ویں ٹیسٹ وکٹ انگلینڈ کے اولی پوپ کی تھی۔اس کے بعد کمنز نے انگلینڈ کے سابق کپتان جو روٹ کو بھی آؤٹ کیا، پوپ کی وکٹ کمنز کی آسٹریلیا کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں 314ویں وکٹ تھی، جس کے ساتھ ہی وہ مچل جانسن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آسٹریلیا کے ٹیسٹ کرکٹ میں چھٹے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز بن گئے۔
آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایشز سیریز کا چوتھا ٹیسٹ 26 سے 30 دسمبر تک میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، تاہم اس میچ میں کمنز کے کھیلنے کے امکانات کم ہیں۔ خود کمنز نے اتوار کو میچ کے بعد پریس کانفرنس میں اس کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ میں خود کو ٹھیک محسوس کر رہا ہوں، لیکن باقی سیریز کے لیے دیکھنا ہوگا۔ ہم نے ایشز جیتنے کے لیے کافی جارحانہ تیاری کی تھی اور ہمیں لگا کہ یہ ضروری ہے۔ اب جب سیریز جیت لی ہے تو لگتا ہے کہ کام مکمل ہو گیا ہے اور اب رسک کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اگلے چند دنوں میں فیصلہ کریں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں میلبورن میں کھیلوں گا، پھر سڈنی کے بارے میں بات کریں گے۔ لیکن سیریز شروع ہونے سے پہلے یہی سوچ تھی کہ جب تک سیریز زندہ ہے، خطرہ مول لیا جائے اور پوری کوشش کی جائے۔ اب جب سیریز ختم ہو گئی ہے تو اس پر دوبارہ بات کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روہت شرما کا مستقبل ،ویڈیو پیغام میں بڑا اپڈیٹ دیدیا












Leave a Reply